ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 17

اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿۫ۖ۱۷﴾
فرعون کے پاس جا ، یقینا وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ En
(اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے
En
(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17تا19) ➊ { اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ …:} فرعون کے پاس جانے کا حکم دینے کے ساتھ اسے دی جانے والی دعوت بھی سکھلائی، دعوت کے الفاظ میں اختصار کے باوجود نرمی اور ترغیب و ترہیب واضح طور پر نمایاں ہیں۔ سورۂ طٰہٰ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو فرمایا تھا: «‏‏‏‏فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى» ‏‏‏‏ [طٰہٰ: ۴۴] فرعون سے نرم بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا ڈر جائے۔
➋ { اِنَّهٗ طَغٰى:} یقینا وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ فرعون کا حد سے بڑھنا ایک تو بندگی کی حد سے بڑھ کریہ کہنا تھا کہ میں تمھارا رب اعلیٰ ہوں، دوسرا خلق خدا پر اس کی طغیانی یہ تھی کہ اس نے قوم کو طبقوں میں تقسیم کرکے اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کے بیٹے ذبح کرتا اور عورتیں زندہ رکھتا تھا۔
➌ {فَقُلْ هَلْ لَّكَ …: تَزَكّٰى } پاک ہو جائے، یعنی شرک و کفر کی گندگی سے پاک ہو جائے۔ { فَتَخْشٰى } پس تو ڈر جائے، یعنی اپنے رب کا راستہ معلوم ہو جانے کے بعد تو ڈر جائے کہ پروردگار اپنی دی ہوئی حکومت چھین کر نعمتوں کی جگہ اپنی گرفت ہی میں نہ لے لے، چنانچہ تو اس ڈر سے اس کا شریک بننے اور بندوں پر ظلم کرنے سے بچ جائے، کیونکہ دل میں ڈر علم ہی سے پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا» ‏‏‏‏ [فاطر: ۲۸] اللہ سے صرف اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 یعنی کفر و معصیت اور تکبر میں حد سے تجاوز کر گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ کہ فرعون کے پاس جاؤ [13]، وہ سرکش ہو گیا ہے
[13] فرعون کے پاس جانے کا حکم :۔
نبوت عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ پر جو ذمہ داری لگائی وہ آپ کے لیے بڑی کڑی آزمائش تھی۔ آپ کے ہاتھ سے اتفاقاً ایک قبطی کی موت واقع ہو گئی تھی ایک خیر خواہ کی اطلاع پر کہ آپ کے قتل کے مشورے فرعونی پارلیمنٹ میں ہو رہے ہیں آپ عارضی طور پر مدین کی جانب چلے گئے اس وجہ سے فرعون کی حکومت آپ کو مجرم سمجھتی تھی۔ آپ کا نام ریکارڈ پر موجود تھا۔ علاوہ ازیں فرعون ایک انتہائی مغرور اور سرکش حکمران تھا جسے اس قسم کا پیغام پہنچانا بذات خود جان جوکھوں کا کام تھا۔ ان خطرات کا موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کے دوران اظہار بھی کیا تھا اور یہ ایک طویل قصہ ہے جس کا ذکر پہلے متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ یہاں ایسی سب باتوں کو حذف کر دیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔