ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 12

قَالُوۡا تِلۡکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ ﴿ۘ۱۲﴾
انھوں نے کہا یہ تو اس وقت خسارے والا لوٹنا ہو گا۔ En
کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے
En
کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) {قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ:} ان کا یہ کہنا بطور مذاق ہے، یعنی اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کے مطابق ہم دوبارہ پہلی حالت میں آئے تو ان کے مطابق تو ہمارے لیے یہ بہت خسارے کا اٹھنا ہوگا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں، پھر دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوگی

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ کہتے ہیں: یہ واپسی تو [9] بڑے گھاٹے کی بات ہو گی
[9] قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے وہ اس دن بڑے خسارے میں رہیں گے۔ کافر ایسی ہی آیات کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے اگر واقعی ہمیں دوبارہ زندہ کیا گیا تو پھر تو ہم مارے گئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اس دنیا میں بھیجا گیا تو ہماری زمین اور مکانوں کے تو کئی وارث بن چکے ہوں گے۔ ایک ایک جائداد کے کئی مدعی ہوں گے اور جھگڑے ہی پڑے رہیں گے اس لحاظ سے تو یہ بڑے گھاٹے کا سودا ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔