(آیت 5،4) ➊ { كَلَّاسَيَعْلَمُوْنَ …: ”كَلَّا“} کا لفظ عربی میں عموماً اپنے سے پہلے والے کلام کو غلط اور بعد والے کلام کو صحیح قرار دینے کے لیے آتا ہے۔ مطلب یہ کہ قیامت کے متعلق اختلاف ڈالنا، انکار کرنا یا شک کرنا بالکل غلط ہے اور اس کا آنا بالکل یقینی ہے۔ ➋ {سَيَعْلَمُوْنَ:} ”عنقریب وہ جان لیں گے“ یعنی اگر ان کی عقل قیامت کو نہیں مانتی اور اس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں تو مرنے سے تو نہ یہ انکار کر سکتے ہیں، نہ شک کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں کسی کا اختلاف ہے، تو بس مرنے کی دیر ہے، اس کے ساتھ ہی قیامت اور دوسری تمام حقیقتیں جنھیں یہ لوگ خلاف عقل قرار دے رہے ہیں، سب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گی۔ تاکید کے لیے دوبارہ {”ثُمَّكَلَّاسَيَعْلَمُوْنَ“} فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ ہرگز نہیں، جلد ہی انہیں معلوم ہو جائے گا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔