(آیت 35){ لَايَسْمَعُوْنَفِيْهَالَغْوًاوَّلَاكِذّٰبًا:} جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کے کان وہاں نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ یہ سنیں گے کہ کوئی کسی کو جھوٹا کہہ رہا ہے۔ کوئی کسی سے جھگڑے گا ہی نہیں کہ اس کی بات کو جھٹلائے۔ گالی گلوچ اور دنگا فساد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس نعمت کی قدر وہی جانتا ہے جسے ان کاموں سے نفرت ہو، پھر اسے بے ہودہ بکنے والوں اور ایک دوسرے کو جھٹلانے والے بدتمیزوں سے واسطہ رہتا ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35۔ 1 یعنی کوئی بےفائدہ اور بےہودہ بات وہاں نہیں ہوگی، نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ وہاں نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ [23]
[23] اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آیا تم نے جھوٹ بولا تھا تو وہ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ گویا انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو کسی ضرورت کے تحت بولتا ہے۔ یہ ضرورت خواہ کسی فائدہ کا حصول ہو یا کسی مصیبت یا تکلیف سے بچنا مقصود ہو۔ انہیں دو باتوں کے لیے وہ جھوٹ بولتا، ایک دوسرے سے الجھتا، لڑائی جھگڑا کرتا اور بیہودہ باتیں کرتا ہے۔ لیکن جنت میں نہ تو کوئی تکلیف پہنچنے کا امکان ہو گا نہ کسی فائدہ کا حصول مطلوب ہو گا کیونکہ ہر طرح کی نعمتیں تو انہیں پہلے ہی سے میسر ہوں گی۔ لہٰذا جنت میں جھوٹ، چغلی، غیبت اور دوسری بیہودہ باتوں کی کبھی ضرورت ہی پیش نہ آئے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔