(آیت 23) {لٰبِثِيْنَفِيْهَاۤاَحْقَابًا: ”اَحْقَابًا“”حُقْبٌ“} (حاء کے ضمہ اور قاف کے سکون کے ساتھ) کی جمع ہے، اسّی (۸۰) سال یا اس سے زیادہ مدت، زمانہ، سال۔ (قاموس) یعنی مدتوں، کئی زمانے، سالہا سال اس میں پڑے رہیں گے، ایک مدت ختم ہونے پر دوسری مدت شروع ہو جائے گی، ایسی مدتیں جن کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔ یہ مطلب نہیں کہ کچھ مدتوں کے بعد عذاب کم یا ختم ہو جائے گا، کیونکہ اسی سلسلہ کلام میں آگے چل کر فرمایا: «فَذُوْقُوْافَلَنْنَّزِيْدَكُمْاِلَّاعَذَابًا» [النبا: ۳۰]”پس چکھو کہ ہم تمھیں عذاب کے سوا ہرگز کسی چیز میں زیادہ نہیں کریں گے۔ “
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ جس میں وہ مدتوں [17] پڑے رہیں گے
[17]﴿اَحْقَابًا﴾﴿حُقْبَه﴾ کی جمع ہے اور ﴿حقبه﴾ بمعنی اسّی سال کا عرصہ یا اس سے زائد مدت، طویل اور غیر معینہ مدت (مفردات) اور اس کی جمع حقب بھی آتی ہے اور احقاب بھی یعنی اہل دوزخ پر جب ایک ﴿حقبه﴾ گزر جائے گا تو دوسرا ﴿حقبه﴾ شروع ہو جائے گا۔ پھر تیسرا گویا وہ لامتناہی مدت تک دوزخ میں ہی پڑے رہیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔