ترجمہ و تفسیر — سورۃ النبأ (78) — آیت 19

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ اَبۡوَابًا ﴿ۙ۱۹﴾
اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہو جائے گا۔ En
اور آسمان کھولا جائے گا تو (اس میں) دروازے ہو جائیں گے
En
اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے دروازے ہو جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) {وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا:} آسمان میں اب بھی دروازے موجود ہیں، جیسا کہ سورئہ اعراف (۴۰) میں ہے اور حدیث معراج میں بھی اس کا ذکر ہے، مگر اس وقت آسمان اس طرح پھٹے گا جیسے وہ سارے کا سارا دروازوں کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ پھٹنا فرشتوں کے اتارے جانے کے لیے ہو گا،جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا» [الفرقان: ۲۵] جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 یعنی فرشتوں کے نزول کے لئے راستے بن جائیں گے اور وہ زمین پر اتر آئیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے [14] ہی دروازے ہو جائے گا
[14] آج ہمیں آسمان ایک نیلگوں اور صحیح و سالم چھت نظر آتی ہے جس میں کہیں کوئی رخنہ، دراڑ یا شگاف نظر نہیں آتا۔ لیکن جب قیامت کا پہلا صور پھونکا جائے گا تو اس آسمان میں اتنی دراڑیں یا شگاف پڑ جائیں گے کہ یوں معلوم ہو گا کہ سارا آسمان بس دروازے ہی دروازے بن گیا ہے۔ اس وقت یہ ایک محفوظ چھت نہیں رہے گا بے شمار ستارے آپس میں ٹکرا کر زمین پر گر پڑیں گے۔ کئی ٹوٹنے والے ستارے اور دوسری بلائیں بھی زمین کا رخ کر لیں گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔