ترجمہ و تفسیر — سورۃ النبأ (78) — آیت 1
عَمَّ یَتَسَآءَلُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
کس چیز کے بارے میں وہ آپس میں سوال کر رہے ہیں؟
(یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں؟
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 1تا3) ➊ { عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ…:} اس سور ت میں قیامت کے حق ہونے کے دلائل اور اس کے کچھ احوال بیان کیے گئے ہیں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید و رسالت پر ایمان لانے کی دعوت کے ساتھ ساتھ یہ بتایا کہ ایک دن تمھیں زندہ ہو کر اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے اور تمھیں تمام نیک و بد اعمال کی جزا ملنی ہے تو سننے والوں نے آپس میں سوال شروع کر دیے کہ کیا واقعی قیامت ہو گی؟ آیا یہ ممکن بھی ہے؟ پھر وہ قیامت کس طرح ہو گی؟ وغیرہ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
➋ { النَّبَاِ الْعَظِيْمِ } سے مراد قیامت ہے۔ اس میں اختلاف یہ ہے کہ کوئی تو مانتا ہی نہیں کہ قیامت ہو گی، کوئی مانتا ہے مگر اسے یقین نہیں، کوئی کہتا ہے مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتے ہیں؟ یہ تو عقل ہی کے خلاف ہے اور کوئی کہتا ہے کہ جسم زندہ نہیں ہوں گے بلکہ سب خوشی اور غم روح ہی پر گزرے گا، وغیرہ وغیرہ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

یہ لوگ کس کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں (1)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ کس چیز کے متعلق وہ آپس میں سوال [1] کرتے ہیں؟
[1] کفار مکہ کے نزدیک قیامت کا تصور اور نظریہ ایک عجوبہ چیز تھی۔ جب قرآن نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ قیامت فی الواقع آنے والی ہے اور تمہیں تمہارے مٹی میں گل سڑ جانے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے تمہارے اعمال کی باز پرس کی جائے گی تو اس کا مذاق اڑانے لگے۔ وہ مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے سامنے آپس میں ہی گفتگو کرتے کہ بھئی یہ قیامت کیا بلا ہے؟ ہم مٹی میں مل جانے کے بعد کیونکر زندہ ہو سکتے ہیں؟ آج تک تو کوئی مرا ہوا زندہ ہوا نہیں۔ پھر یہ کیسی انہونی بات ہے اور یہ آئے گی کب؟ یہی وہ سوالات تھے جو ان کی دلچسپی کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ وہ مسلمانوں سے بھی، نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اور آپس میں بھی ایسے سوالات کرتے رہتے تھے اور اس بات سے ان کا مقصد مسلمانوں کو چڑانا ہوتا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭
جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘
پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔
مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395]‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔
پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3]‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟
زمین کا تذکرہ:
تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔
انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق:
’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔
جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21]‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔