ترجمہ و تفسیر — سورۃ المرسلات (77) — آیت 6

عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا ۙ﴿۶﴾
عذر کے لیے، یا ڈرانے کے لیے۔ En
تاکہ عذر (رفع) کردیا جائے یا ڈر سنا دیا جائے
En
جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاه کردینے کے لیے ہوتی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 5 میں تا آیت 7 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یعنی فرشتے وحی لے کر آتے ہیں تاکہ لوگوں پر دلیل قائم ہوجائے اور یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس تو کوئی اللہ کا پیغام ہی لے کر نہیں آیا یا مقصد ڈرانا ہے ان کو جو انکار یا کفر کرنے والے ہوں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ عذر کی صورت میں یا ڈرانے [3] کی صورت میں
[3] ﴿عُذْرًا اَوْ نُذْرًا کا تعلق صرف سابقہ آیت سے ہے۔ یعنی پیغمبر کے دل میں وحی یا لوگوں کے دل میں القاء و الہام کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں اپنی گمراہی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے اور ان پر اتمام حجت ہو جائے اور وہ عذاب کے وقت یہ نہ کہہ سکیں کہ انہیں پہلے سے خبر نہ تھی اور دوسرا فائدہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ سے اسے دیکھے بغیر ڈر جاتے ہیں اور اپنے برے انجام سے ڈر کر اللہ کے اطاعت گزار بن جاتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔