(آیت 50){ فَبِاَيِّ …:} یعنی قرآن جو اللہ کا اپنا کلام ہے اور جس کا انداز انتہائی مؤثر اور دل نشیں ہے، جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کا جواب کوئی پیش کر سکا ہے نہ کر سکے گا، اس پر یہ کفار ایمان نہیں لاتے تو پھر وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
50۔ 1 یعنی جب قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ پھر اس کلام (قرآن) کے بعد اور کونسا کلام ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں [28] گے؟
[28] یعنی حق و باطل میں امتیاز کے لحاظ سے پند و نصیحت کے لحاظ سے، انسان کو نیک و بد سمجھانے کے لحاظ سے اور اسے اس اخروی انجام سے آگاہ کرنے کے لحاظ سے قرآن سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہو سکتی۔ پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی ایمان لانے کو تیار نہیں تو کیا اس کے بعد کوئی اور کتاب آسمان سے اترنے والی ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے۔ حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص اس آیت پر پہنچے تو یوں کہے: ﴿امنا باللّٰه﴾[مستدرك حاكم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔