(آیت 49،48) {وَاِذَاقِيْلَلَهُمُارْكَعُوْا …:} رکوع کا معنی جھکنا یعنی اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا ہے اور رکوع بول کر نماز بھی مراد لی جاتی ہے، کیونکہ رکوع اس کا ایک حصہ ہے، یعنی ان مکذبین کے جھٹلانے کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی وہ نماز پڑھنے پر آمادہ ہیں، یہی کبر ان کے انکار کا باعث بن گیا ہے، جس طرح شیطان کے لیے بنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا اصل اللہ کے سامنے جھک جانا ہے اور کفر کا اصل اللہ کے سامنے جھکنے سے انکار ہے اور ایسے لوگوں کے لیے قیامت کے دن بہت بڑی خرابی اور بربادی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 یعنی جب ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو نماز نہیں پڑھتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ اور جب انہیں (اللہ کے آگے) جھکنے کو کہا جاتا تھا تو وہ [27] نہیں جھکتے تھے
[27] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی آیات اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو کہا جاتا تو وہ تسلیم کرنے کے بجائے اکڑ بیٹھتے تھے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب انہیں نماز کے لیے کہا جاتا تو انکار کر دیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت قبیلہ بنو ثقیف کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز ادا کرنے کا حکم دیا تو کہنے لگے کہ نماز میں تو جھکنا پڑتا ہے اور جھکنے میں ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی ہی تباہی ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن اللہ کے حضور سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن کر نہ سکیں گے۔ ان کی پشتوں کے پٹھے اکڑ جائیں گے جیسا کہ سورۃ القلم کی آیت نمبر 42 اور 43 میں پہلے گزر چکا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔