اس آیت کی تفسیر آیت 42 میں تا آیت 44 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
43۔ 1 یہ بطور احسان انہیں کہا جائے گا یعنی جنت کی یہ نعمتیں ان اعمال صالحہ کی وجہ سے تمہیں ملی ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ جس کی وجہ سے انسان جنت میں داخل ہوگا اعمال صالحہ ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کے بغیر اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی زمین میں ہل چلائے اور بیج بوئے بغیر فصل کا امیدوار ہو یا حنظل بوکر خوش ذائقہ پھلوں کی امید رکھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ مزے سے کھاؤ پیو، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے رہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔