اس آیت کی تفسیر آیت 35 میں تا آیت 37 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3 6 ۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے معقول عذر ہی نہیں ہوگا جسے وہ پیش کرسکیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ اور نہ انہیں یہ اجازت دی جائے گی کہ وہ [22] کوئی عذر پیش کریں
[22] یہ وہ وقت ہو گا جب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ ہو چکے گا۔ اور ظالم لوگوں کے اعضاء و جوارح ان کے خلاف شہادت دے کر انہیں جھوٹا قرار دے چکے ہوں گے۔ انصاف کے تمام تر تقاضوں کے مکمل ہونے کے بعد مجرموں کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اپنی بریت کے لیے مزید کچھ کہہ سکیں نہ ہی اس وقت عذر پیش کرنے کا کوئی موقع باقی رہ جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔