اس آیت کی تفسیر آیت 32 میں تا آیت 34 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
33۔ 1 اس معنی کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک ایک چنگاڑی اتنی اتنی بڑی ہوگی جیسے محل یا قلعہ۔ پھر ہر چنگاڑی کے مذید اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے اونٹ ہوتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ (جو اچھلتے ہوتے ہوئے یوں محسوس ہوں گے) گویا وہ زرد [20] اونٹ ہیں
[20] جہنم سے اٹھنے والے چنگارے اور شرارے اتنے بڑے ہوں گے۔ جیسے بلند و بالا عمارتیں ہوں پھر جب وہ ٹوٹ کر اور بکھر کر نیچے جہنم کی طرف گریں گے تو ایسا معلوم ہو گا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔