اس آیت کی تفسیر آیت 26 میں تا آیت 28 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جما دیئے [17] اور تمہیں میٹھا پانی پلایا
[17] زمین سے انسان کا دائمی تعلق :۔
پھر اسی زمین میں بلند و بالا پہاڑ پیدا کر دیئے جو سمندروں سے اٹھنے والے آبی بخارات کو ٹھنڈا کر دینے اور بارش کے قطرے بن جانے میں مدد دیتے ہیں۔ اور ان آبی بخارات کا رخ بدل دیتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں پہاڑوں پر برف بھی جمتی ہے اور بارشیں بھی خوب ہوتی ہیں۔ یہی پانی کچھ تو ندی، نالوں، نہروں اور دریاؤں کی صورت میں بہتا ہے اور انسانوں اور کھیتیوں کو سیراب کرتا ہے اور اسی بارش کے پانی کا کثیر حصہ زمین میں جذب ہو جاتا ہے۔ تو سطح زمین کے نیچے خاصی گہرائی میں پانی کی نہریں اور دریا رواں ہو جاتے ہیں۔ پانی کے یہ محفوظ ذخیرے اس وقت کام آتے ہیں جب بارش برسنے میں دیر ہو جائے۔ تاکہ انسان مصنوعی آبپاشی کے ذریعہ اپنے کھیتوں کو اور اپنے آپ کو سیراب کر سکے۔ علاوہ ازیں پہاڑوں سے معدنیات نکل رہی ہیں۔ زمین سے کئی طرح کے سیال اور گیس کے خزانے برآمد ہو رہے ہیں۔ جوں جوں انسان کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے زمین بھی اپنے نت نئے خزانے اگل رہی ہے۔ گویا یہی زمین زندوں کی زندگی کی بقاء کے لیے بھی بہت کافی ہے اور دنیا جہاں کے مردوں کو سنبھالنے کے لیے بھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔