اس آیت کی تفسیر آیت 21 میں تا آیت 23 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
یعنی مدت حمل تک نو یا چھ مہینے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ ایک معین وقت [13] تک
[13] یہ معین وقت اگرچہ عموماً نو ماہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں کمی و بیشی بھی ممکن ہے۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ عورت اور مرد کے نطفہ میں کس قدر قوت یا کمزوری ہے۔ یا ان دونوں میں سے کسی ایک میں ہے تو اسی نسبت سے اس مدت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور بچہ کی نشو و نما جب رحم مادر میں مکمل ہو جاتی ہے تو وضع حمل کا وقت آجاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔