اس آیت کی تفسیر آیت 11 میں تا آیت 13 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یعنی کیسے عظیم دن کے لئے، جس کی شدت اور ہولناکی، لوگوں کے لئے سخت تعجب انگیز ہوگی، ان پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت دیا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ بھلا کس دن کے لیے (ان امور میں) تاخیر [7] کی گئی؟
[7] کافر لوگ عذاب کے لیے اور قیامت کے لیے جلدی مچاتے ہی رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبہ کی کچھ پروا نہ کرتے ہوئے اس دن کے وقوع میں اتنی تاخیر کر دی جتنی اس کے اپنے اندازے کے مطابق پہلے سے طے شدہ تھی۔ اور جب وہ طے شدہ وقت یا دن آپہنچا تو پھر اس میں مزید تاخیر ناممکن تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔