اس آیت کی تفسیر آیت 10 میں تا آیت 12 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 یعنی فصل وقضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ اور رسولوں (کی حاضری) کا وقت [6] آپہنچے گا
[6] اس طرح موجودہ ارضی و سماوی نظام درہم برہم ہونے کے ساتھ ہی قیامت قائم ہو جائے گی۔ تمام مرے ہوئے لوگوں کو زندہ کر کے زمین سے نکال لایا جائے گا۔ اور سب سے پہلے رسولوں سے اپنی اپنی امت کے متعلق شہادت طلب کی جائے گی کہ جب تم نے لوگوں کو میرا پیغام پہنچایا تھا تو انہوں نے کیسا رد عمل اختیار کیا تھا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔