ترجمہ و تفسیر — سورۃ المرسلات (77) — آیت 10

وَ اِذَا الۡجِبَالُ نُسِفَتۡ ﴿ۙ۱۰﴾
اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے۔ En
اور جب پہاڑ اُڑے اُڑے پھریں
En
اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 9 میں تا آیت 11 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا اور زمین بالکل صاف اور ہموار کردی جائے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دیئے [5] جائیں گے
[5] ان تین آیات میں قیامت کے واقع ہونے کے دن کی تین علامات بتائیں۔ ایک یہ کہ ستارے جو تمہیں آسمان پر جگ مگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا نور سلب کر لیا جائے گا۔ یہ دھندلا جائیں گے اور گدلے گدلے سے داغ نظر آئیں گے اور ایک دوسرے مقامات پر فرمایا کہ وہ جھڑ پڑیں گے ایسے جیسے کسی نے جھٹک کر پرے پھینک دیا ہو۔ دوسری علامت یہ ہے کہ یہ آسمان کی نیلگوں چھت جو تمہیں اپنے سروں پر نظر آرہی ہے۔ اور اس کی ہمواری اور یکسانی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، اس نیلی چھت میں دراڑیں اور شگاف پڑ جائیں گے۔ ستاروں اور سیاروں کی باہمی کشش جس سے یہ کائناتی نظام قائم ہے ختم ہو جائے گی۔ یہ دو علامتیں تو آسمان پر ضرور ہوں گی اور تیسری علامت زمین پر یہ نظر آئے گی کہ پہاڑوں جیسی عظیم الجثہ اور سخت مخلوق کی جڑیں زمین میں ڈھیلی پڑ جائیں گی۔ ان کا ایک حصہ دوسرے پر گر گر کر پہاڑوں کے طویل سلسلے ریزہ ریزہ ہو جائیں گے پھر اسی پر ہی معاملہ ختم نہ ہو گا بلکہ پہاڑوں کے ان ریزہ ریزہ شدہ ذرات کو ہوا اڑاتی پھرے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔