(آیت 9){ اِنَّمَانُطْعِمُكُمْلِوَجْهِاللّٰهِ …: ”شُكُوْرًا“} مصدر ہے، بروزن {”دُخُوْلٌ“} اور {”خُرُوْجٌ“} یعنی وہ کھانا کھلاتے ہوئے یہ بات دل میں کہتے ہیں یا زبان سے انھیں اطمینان دلانے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلا رہے ہیں، تم سے نہ یہ خواہش ہے کہ تم اس کا بدلا دو اور ہمارے کسی کام آؤ، نہ یہ کہ ہمارا شکریہ ادا کرو اور لوگوں کے سامنے ہماری سخاوت کا ذکر کرو، تاکہ وہ اپنے آپ پر احسان کا بوجھ محسوس نہ کریں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ (اور انہیں کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کی خاطر کھلاتے ہیں ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے [12] ہیں اور نہ شکریہ
[12] محسن اور ممنون کے لئے الگ الگ احکام :۔
اسلام کی انتہائی اعلیٰ و ارفع تعلیمات میں سے ایک یہ حکم ہے یعنی احسان کرنے والوں کو اسلام نے یہ تعلیم دی کہ وہ اس سے جس پر احسان کیا گیا ہے کسی طرح کے معاوضہ، بدلہ حتیٰ کہ شکریہ تک کی بھی توقع نہ رکھیں۔ اور جس پر احسان کیا جائے اس کو یہ تعلیم دی کہ وہ احسان کرنے والے کا ضرور شکریہ ادا کریں۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ﴿من لا يشكر الناس لا يشكر الله﴾ (یعنی جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا کرنا نہیں جانتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا؟) حالانکہ حق اور عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ احسان کرنے والے کا شکریہ ادا کیا جائے۔ اب احسان کرنے والے کو یہ سبق دیا کہ وہ احسان کے شکریہ تک کی بھی توقع نہ رکھے اور جس پر احسان ہوا اسے یہ سبق دیا کہ اول تو اس کا بدلہ ادا کرنے کی کوشش کرے ورنہ شکریہ ضرور ادا کرے۔ اس طرح معاشرہ میں ایسی فضا قائم کر دی جس سے معاشرہ کے محتاج و اغنیاء کے درمیان محبت اور مؤانست کو فروغ حاصل ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔