ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 31

یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ وَ الظّٰلِمِیۡنَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۳۱﴾
وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ظالم لوگ، اس نے ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔ En
جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
En
جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے، اور ﻇالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) ➊ {يُدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ:} وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں کو ہدایت کیوں نہیں دی؟ فرمایا ہدایت و رحمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، مالک اپنی چیز جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے، کوئی اسے پوچھ نہیں سکتا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْـَٔلُوْنَ» ‏‏‏‏ [الأنبیاء: ۲۳] اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھاجاتا ہے۔
➋ {وَ الظّٰلِمِيْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا:} یعنی اس نے ظالموں کے لیے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔ یہاں { الظّٰلِمِيْنَ } سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ سب سے بڑے ظالم وہی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» ‏‏‏‏ [لقمان: ۱۳] بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ معلوم ہوا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے محروم انھی کو رکھتا ہے جو ظالم ہیں، جیسے فرمایا: «يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا وَّ يَهْدِيْ بِهٖ كَثِيْرًا وَ مَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ (26) الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَ يَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: 27،26] وہ اس(قرآن) کے ساتھ بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس کے ساتھ گمراہ نہیں کرتا مگر نافرمانوں کو۔ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو، اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو قطع کرتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی اپنی رحمت میں داخل فرمائے اور عذابِ الیم سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 والظالمین اس لیے منصوب ہے کہ اس سے پہلے یعذب محذوف ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب [34] تیار کر رکھا ہے۔
[34] یعنی جو انسان اس دنیا میں اپنے اختیار کا صحیح استعمال کرے گا اور کائنات کی دوسری اشیاء کی طرح اپنے آپ کو اللہ کا تابع فرمان رکھے گا۔ اسے تو اللہ اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا اور جو اس اختیار کا غلط استعمال کرے گا اور اللہ کا سرکش اور نافرمان بن کر زندگی گزارے گا اسے مرنے کے ساتھ ہی دکھ دینے والے عذاب سے دوچار کر دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔