ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 17

وَ یُسۡقَوۡنَ فِیۡہَا کَاۡسًا کَانَ مِزَاجُہَا زَنۡجَبِیۡلًا ﴿ۚ۱۷﴾
اور اس میں انھیں ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ ملی ہوگی۔ En
اور وہاں ان کو ایسی شراب (بھی) پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی
En
اور انہیں وہاں وه جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18،17) {وَ يُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا …: كَاْسًا } وہ پیالہ جس میں شراب ہو، خالی پیالے کو کاس نہیں کہتے۔ {مِزَاجٌ} آمیزش، ملونی، یعنی وہ چیز جو لذت یا خوشبو میں اضافے کے لیے ملائی جائے۔ { زَنْجَبِيْلًا } ادرک، سونٹھ۔ { سَلْسَبِيْلًا } کے تین معانی ہیں: (1) آسانی سے حلق میں اتر جانے والا۔ (2) تیزی سے بہنے والا۔ (3) آسانی سے تابع ہونے والا کہ جدھر لے جانا چاہیں لے جائیں۔عرب لوگ شراب کی لذت، حرارت، تلخی اور خوشبو میں اضافے کے لیے اس میں سونٹھ کی آمیزش کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنتیوں کو جو جامِ شراب پلایا جائے گا اس میں زنجبیل کی آمیزش ہو گی۔ گویا جنت میں ایک وہ شراب ہو گی جو ٹھنڈی ہو گی، جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور ایک گرم ہوگی جس میں سونٹھ ملی ہو گی۔ واضح رہے کہ جنت کی نعمتوں کے ذکر کے وقت دنیا کی جن چیزوں کا ذکر آیا ہے ان سے بعینہٖ وہی چیزیں مراد نہیں بلکہ ان سے بے حد و حساب اعلیٰ چیزیں مراد ہیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷) کی تفسیر۔ صاحب احسن التفاسیر لکھتے ہیں: اگرچہ جنت میں کھانے پینے، پہننے اور برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہیں، لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے دن ہی وہ کھٹا نہ ہو جائے؟ وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیوں کی بھنکار اس میں جم جم کر نہ مرے اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے؟ اور وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب سے اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہو جائے۔ (احسن التفاسیر)
{ عَيْنًا كَاْسًا } سے بدل ہے یا منصوب بہ نزع الخافض ہے، یعنی {يُسْقَوْنَ كَأْسًا مِّنْ عَيْنٍ۔} مطلب یہ کہ انھیں وہ جامِ شراب جس میں زنجبیل کی آمیزش ہو گی، ایسے چشمے سے پلایا جائے گا جس کا نام سلسبیل ہے۔ یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا پانی نہایت خوش گوار، رقیق اور آسانی سے حلق سے اترنے والا ہوگا اور اس چشمے سے نکلنے والی نالیاں نہایت تیز رفتار اور اہلِ ایمان کے لیے نہایت تابع ہوں گی کہ وہ جدھر چاہیں گے انھیں لے جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 زَ نْجَبِیْل (سونٹھ، خشک ادرک) کو کہتے ہیں۔ یہ گرم ہوتی ہے اس کی آمیزش سے ایک خوشگوار تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں عربوں کی یہ مرغوب چیز ہے۔ چناچہ ان کے قہوہ میں بھی زنجبیل شامل ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ایک وہ شراب ہوگی جو ٹھنڈی ہوگی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور دوسری شراب گرم، جس میں زنجبیل کی ملاوٹ ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ وہاں انہی شراب کے ایسے جام بھی پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش [20] ہو گی
[20] پہلے کافور کی آمیزش والے مشروب کا ذکر کیا گیا جو اپنی تاثیر کے لحاظ سے ٹھنڈا اور مفرح ہوتا ہے۔ اب زنجبیل یا سونٹھ کی آمیزش والے مشروب کا ذکر کیا گیا۔ زنجبیل کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔ اہل عرب کے شوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ ایک قدرتی چشمہ ہو گا جس کے مشروب میں سونٹھ کی خوشبو تو ہو گی مگر اس کی تلخی نہیں ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔
حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے ‘۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ’ جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6571]‏‏‏‏
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ { ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]‏‏‏‏
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔
(‏‏‏‏اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)‏‏‏‏‏‏‏‏
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ { ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔‏‏‏‏ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے }۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:20]‏‏‏‏ تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]‏‏‏‏
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے ‘۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» ۱؎ [22-الحج:23]‏‏‏‏ ’ انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا ‘۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔‏‏‏‏ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24]‏‏‏‏ ’ دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو ‘۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:43]‏‏‏‏ یعنی ’ منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے ‘۔ یہاں بھی فرمایا ہے ’ تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے ‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔