(آیت 12) {وَجَزٰىهُمْبِمَاصَبَرُوْاجَنَّةًوَّحَرِيْرًا:} اور انھیں اللہ تعالیٰ ان کے صبر کے عوض جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ صبر کا مفہوم بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر صبر، اس کی حرام کردہ چیزوں سے صبر، اس کے دین کی دعوت پر صبر، آزمائشوں اور تکلیفوں پر صبر، خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلانے پر صبر، غرض مومن کی زندگی اوّل تا آخر صبر ہی صبر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 صبر کا معنی ہے دین کے راستے میں جو تکلفیں آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اللہ کی اطاعت میں نفس کی خواہشات اور لذات کو قربان کرنا اور معصیتوں سے اجتناب کرنا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا [15] کرے گا۔
[15] دنیا میں ان لوگوں نے اللہ کی رضا کی خاطر بے شمار پابندیاں برداشت کی تھیں۔ اسلام کی راہ میں آنے والی مشکلات کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے تھے۔ اس مستقل صبر کے عوض آج انہیں جنت بھی عطا کی جائے گی اور فاخرانہ ریشمی لباس بھی پہنائے جائیں گے اور وہ جنت میں پورے شاہانہ ٹھاٹھ کے ساتھ تکیہ لگائے بیٹھا کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔