(آیت 11){ فَوَقٰىهُمُاللّٰهُشَرَّذٰلِكَالْيَوْمِ …:} اللہ تعالیٰ اخلاص اور خوف کے ساتھ مذکورہ اعمال کرنے والے ابرار و عباد اللہ کو اس دن کی برائی سے بچالے گا اور انھیں تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا۔ تازگی چہرے کی اور خوشی دل کی۔ دل میں خوشی ہو تو چہر ے پر تازگی آجاتی ہے۔ (دیکھیے عبس: 39،38) ان کے برعکس کفار و فجار کے چہرے بگڑے ہوئے اور دل غم و فکر سے بھرے ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ عبس (۴۰ تا ۴۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 جیسا کہ وہ اس کے شر سے ڈرتے تھے اور اس سے بچنے کے لئے اللہ کی اطاعت کرتے تھے۔ 11۔ 2 تازگی چہروں پر ہوگی اور خوشی دلوں میں، جب انسان کا دل مسرت سے لبریز ہوتا ہے تو اس کا چہرہ بھی مسرت سے گلنار ہوجاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ چنانچہ اللہ ایسے لوگوں کو اس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں [14] تازگی اور سرور بخشے گا
[14] یعنی اللہ ان کے اس نیک عمل کا بدلہ یہ دے گا کہ ان کے چہرے بگڑنے کے بجائے خوب تر و تازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے اور دلوں میں گھبراہٹ واقع ہونے کے بجائے ان کو دل کا اطمینان اور سرور عطا فرمائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔