ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 1
ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا ﴿۱﴾
کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا (کہیں) ذکر ہوا ہو؟
بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی
یقیناً گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس سورت کو { سُوْرَةُ الإِْنْسَانِ } اور {سُوْرَةُ هَلْ أَتٰي} بھی کہا جاتا ہے۔ (قاسمی) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرَأُ فِي الْجُمُعَۃِ فِيْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ: «‏‏‏‏الٓمّٓ (1) تَنْزِيْلُ» ‏‏‏‏ [السجدۃ: ۱،۲] وَ «هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ» ‏‏‏‏ [الإنسان: ۱]] [بخاري، الجمعۃ، باب ما یقرأ في صلاۃ الفجر یوم الجمعۃ: ۸۹۱] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
(آیت 1) ➊ {هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ …: هَلْ } (کیا) پوچھنے کے لیے آتا ہے۔ یہ پوچھنا کبھی تو کوئی خبر معلوم کرنے کے لیے ہوتا ہے، جیسے {هَلْ فِي الدَّارِ زَيْدٌ} کیا گھر میں زید ہے؟ اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ کبھی یہ سوال کسی بات کی نفی کے لیے ہوتا ہے، جیسے: {وَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ ذٰلِكَ أَحَدٌ} بھلا یہ کام کوئی کرسکتا ہے؟ یعنی کوئی نہیں کر سکتا۔ عربی میں اسے نفی کے علاوہ جحد بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پوچھنا بات منوانے کے لیے ہوتا ہے، اسے عربی میں تقریر کہتے ہیں، جیسے آپ نے کسی کو کچھ دیا ہو یا اس کی عزت کی ہو تو اسے کہیں {هَلْ أَعْطَيْتُكَ} کیا میں نے تمھیں دیا؟ اور {هَلْ أَكْرَمْتُكَ} کیا میں نے تمھاری عزت کی؟ اس وقت یہ {هَلْ} بمعنی { قَدْ} ہوتا ہے، یعنی یقینا میں نے تمھیں دیا اور یقینا میں نے تمھاری عزت کی۔ اس آیت میں { هَلْ } اسی آخری معنی کے لیے آیا ہے۔ بہت سے مفسرین نے اس کا ترجمہ یقینا یا تحقیق کیا ہے، لیکن { هَلْ } کا معنی اپنے اصل پر کیا ہو تب بھی مراد یہی ہے کہ یقینا اس پر ایسا وقت گزرا ہے۔
➋ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، ان کے خیال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کے خاک ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ پیدا کیا جا سکے۔ یہاں ایسے لوگوں کو قائل کرنے کے لیے سوال ہے کہ کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے جب وہ کوئی ایسی چیز ہی نہ تھا جس کا ذکر ہوتا ہو؟ صاف ظاہر ہے کہ ان کا جواب یہ ہو گا کہ یقینا انسان پر ایسا وقت گزرا ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اسے اس وقت بنا لیا جب یہ کچھ بھی نہ تھا بلکہ کہیں اس کا ذکر بھی نہ تھا تو پیدا کرنے کے بعد دوبارہ وہ کیوں نہیں بنا سکتا؟ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَيًّا (66) اَوَ لَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ يَكُ شَيْـًٔا» ‏‏‏‏ [مریم: 67،66] اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا مجھے زندہ کرکے (قبر سے) نکالاجائے گا؟ کیا اسے یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اسے پیدا کیا جب وہ کوئی چیز ہی نہ تھا۔
➌ { الْاِنْسَانِ } سے مراد یہاں صرف آدم علیہ السلام نہیں بلکہ نسل انسانی ہے، کیونکہ آئندہ آیت میں انسان کے نطفہ سے پیدا ہونے کا ذکر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

یقیناً گزرا ہے انسان ایک وقت زمانے میں (1) جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ کیا انسان پر لامتناہی زمانہ [1] سے ایک وقت ایسا بھی آیا ہے جب کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا؟
[1] دہر کا لغوی مفہوم، دہر اللہ کی ذات ہے :۔
دھر بمعنی زمانہ کائنات، مدت عالم، جب سے کائنات شروع ہوئی اس وقت سے لے کر اس کے اختتام تک کا وقت (مفردات) اور ابن الفارس کہتے ہیں کہ دھر میں غلبہ اور قہر کا مفہوم پایا جاتا ہے اور دہر کا یہ عالم اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز پر اضطراراً گزرتا اور اس پر غالب آتا ہے۔ (مقائیس اللغۃ) اور دہر کا تعلق مشیئت الٰہی سے ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لا تسبوا الدهر فان الله هوالدهر﴾ یعنی دہر کو برا بھلا نہ کہہ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دہر ہے۔ [بخاری۔ کتاب الادب۔ باب لا تسبوا الدھر]
اور دہری وہ شخص ہے جو کائنات کی تخلیق کا قائل نہیں بلکہ اسے ابد الاباد سے شمار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی صانع نہیں بس یہ آپ سے آپ اتفاقات کے نتیجہ میں وجود میں آگئی تھی۔ اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ انسان پر ایسا وقت بھی گزر چکا ہے جبکہ بنی نوع انسان کی ابھی تخلیق ہی نہ ہوئی تھی۔ اور اس کا نام و نشان تک صفحہ ہستی پر موجود نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور اور طور طے کرنے کے بعد یہ نطفہ کی شکل میں آیا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب انسان نطفہ کی حالت میں تھا تو اس کی موجودہ شرافت و کرامت کے مقابلہ میں اس کی وہ حالت اس قابل ہی نہیں تھی کہ اسے زبان پر لایا جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» ۱؎ [67-الملك:2]‏‏‏‏ ’ تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ ‘
پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔
ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:17]‏‏‏‏ یعنی ’ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی ‘۔
اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» ۱؎ [90- البلد:10]‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں ‘، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ اسے ہم نے راہ دکھائی یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔
«‏‏‏‏شاکراً» اور «کفوراً» ‏‏‏‏کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3]‏‏‏‏ میں ہے، یعنی ’ وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے ‘۔
جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:223]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔‏‏‏‏ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے یا فرمایا دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے۱؎ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی]‏‏‏‏
سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:30]‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ { ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا }۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ { جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:323/2:ضعیف]‏‏‏‏