اس آیت کی تفسیر آیت 5 میں تا آیت 7 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یہ سوال اس لئے نہیں کرتا کہ گناہوں سے تائب ہوجائے، بلکہ قیامت کو ناممکن الو قوع سمجھتے ہوئے پوچھتا ہے۔ اسی لیے فسق و فجور سے باز نہیں آتا۔ تاہم اگلی ٓآیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے آنے کا وقت بیان فرما رہے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب [5] ہو گا
[5] یعنی انسان کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ حقیقت کو سمجھنے کے باوجود یہ سوال کیے جاتا ہے کہ وہ دن آخر آئے گا کب؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔