(آیت 6،5) {بَلْيُرِيْدُالْاِنْسَانُ …: ”لِيَفْجُرَ“”فَجَرَفُجُوْرًا“} (ن) جھوٹ بولنا، گناہ کرنا، زنا کرنا۔ یعنی قیامت کے انکار کی کوئی اور وجہ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے یعنی آنے والے دنوں میں بھی نافرمانی اور گناہ کرتا رہے۔ اب اگر وہ قیامت پر ایمان لائے تو اس کا تقاضا ہے کہ گناہ چھوڑ دے جسے چھوڑنے پر وہ آمادہ نہیں۔ گویا وہ عقل کی وجہ سے قیامت کا انکار نہیں کر رہا بلکہ ہوس نے اسے اندھا کر رکھا ہے، اس لیے وہ تیاری کے لیے نہیں بلکہ مذاق اڑانے اور جھٹلانے کے لیے پوچھتا ہے کہ وہ دفعتاً اٹھ کھڑے ہونے کا وقت کب ہو گا؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی اس امید پر نافرمانی اور حق کا انکار کرتا ہے کہ کون سی قیامت آنی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے علی الرغم [4] بد اعمالیاں کرتا رہے۔
[4] اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہیں سمجھتا کہ وہ اسے دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کر کے اپنی آزادانہ زندگی پر پابندیاں عائد نہیں کرنا چاہتا۔ اسے خوب معلوم ہے کہ اگر اس نے عقیدہ آخرت کو تسلیم کر لیا تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا اور نہایت پابند اور محتاط زندگی گزارنا پڑے گی۔ اس کا آسان حل اس نے یہ سوچا کہ قیامت کا ہی انکار کر دے۔ اور اس کی یہ کیفیت بالکل ویسی ہی ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور اپنے نفس کو اس فریب میں مبتلا کر لیتا ہے کہ بس اب خطرہ دور ہو گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔