اس آیت کی تفسیر آیت 38 میں تا آیت 40 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں [21] بنا دیں
[21] لڑکے اور لڑکیوں کی پیدائش میں تناسب اور دہریت کا رد :۔
بعض دہریے اور نیچری حضرات رحم مادر میں انسان کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا کارنامہ نہیں سمجھتے۔ بلکہ وہ اسے ایک طبعی امر اور اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اتفاقات کا نتیجہ تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نوع انسانی کے کسی دور میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوتے جائیں اور لڑکیاں پیدا نہ ہوں اور اس کے برعکس یہ بھی ممکن ہے کہ کسی دور میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی جائیں اور لڑکے پیدا نہ ہوں۔ اور اس طرح نسل انسانی کا سلسلہ ہی منقطع ہو جائے؟ کیا یہ بھی اتفاقات کا ہی نتیجہ قرار دیا جائے گا کہ ہر دور میں لڑکے اور لڑکیاں اللہ تعالیٰ اس نسبت سے پیدا فرما رہا ہے کہ نسل انسانی میں انقطاع واقع نہیں ہوتا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں