وَ قِیۡلَ مَنۡ ٜ رَاقٍ ﴿ۙ۲۷﴾
اور کہا جائے گا کون ہے دم کرنے والا؟
En
اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے
En
اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے واﻻ ہے؟
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 26 میں تا آیت 28 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 یعنی حاضرین میں سے کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ سے تمہیں موت کے پنجے سے چھڑا لے۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بھی کیا ہے کہ اس کی روح کون لے کر چڑھے گا ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب؟ اس صورت میں یہ قول فرشتوں کا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ اور کہا جاتا ہے کہ کوئی دم جھاڑ کرنے والا [17] ہے؟
[17] اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ: ﴿مَنْ رَاقٍ﴾ کو فرشتوں کا کلام سمجھا جائے اور راق کو رقی بمعنی اوپر چڑھنے سے مشتق قرار دیا جائے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فرشتے ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ اس شخص کی روح کو جنت کے فرشتے لے کر اوپر چڑھیں گے یا دوزخ کے؟ اور دوسرا مطلب یہ ہے راق کو رقیۃ بمعنی دم جھاڑ سے مشتق قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ مطلب ہو گا کہ جب میت کے لواحقین اس کے علاج سے عاجز آجاتے ہیں تو پھر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے؟ اور یہ میت کے علاج یا اسے موت کے منہ سے سے بچانے کے لئے آخری حربہ کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ واضح رہے علاج کروانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور دم جھاڑ کی اجازت ہے بشرطیکہ اس میں شرکیہ کلمات نہ ہوں۔ تاہم اللہ پر توکل کرنے والوں اور ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنے والوں کا درجہ علاج کرانے والوں سے بہت بلند ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بے حساب جنت میں جائیں گے یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر چلے گئے اور یہ نہیں بتایا کہ وہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ بلاحساب جنت میں جانے والے متوکلین :۔
اب صحابہ قیاس دوڑانے لگے اور کہنے لگے یہ ستر ہزار ہم لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کے پیغمبر کی پیروی کی یا ہماری اولاد ہو گی جو اسلام کے دین پر ہی پیدا ہوئی۔ کیونکہ ہم لوگ تو جاہلیت اور کفر کے دور میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور فرمایا: ”یہ ستر ہزار وہ لوگ ہیں جو نہ منتر کرتے ہیں نہ برا شگون لیتے ہیں، نہ داغ لگواتے ہیں بلکہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں“ یہ سن کر ایک صحابی عکاشہ بن محصن کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں ان لوگوں سے ہوں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ پھر ایک اور صحابی (سعد بن عبادہ) کھڑے ہو کر کہنے لگے:”کیا میں بھی ان سے ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم سے پہلے عکاشہ ان لوگوں میں ہو چکا“ [بخاري۔ كتاب الطب والمرضيٰ۔ باب من لم يرق]
دوا سے علاج کرانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ علاج حرام اشیاء سے نہ کیا جائے لیکن دم جھاڑ کرنا کوئی مستحسن فعل نہیں۔ البتہ بعض شرائط کے تحت اس کی اجازت دی گئی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے:
1۔ سیدنا جابرؓ فرماتے ہیں کہ میرا ماموں بچھو کا منتر کیا کرتا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منتروں سے منع کر دیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منتروں کو منع کر دیا اور میں بچھو کا منتر کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکے اسے پہنچانا چاہیے۔“ [مسلم۔ كتاب السلام۔ باب استحباب رقية المريض]
2۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ ہم جاہلیت کے زمانہ میں منتر کیا کرتے تھے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے منتروں کو میرے سامنے پیش کرو۔ اگر اس میں شرک کا مضمون نہ ہو تو کچھ قباحت نہیں“ [مسلم۔ ايضاً]
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب کوئی گھر میں بیمار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر معوذات (سورۃ العلق اور سورۃ الناس) پڑھ کر پھونکتے۔ پھر جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھونکتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھیرتی۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں میرے ہاتھ سے زیادہ برکت تھی۔ [مسلم۔ ايضاً]
4۔ عثمان بن ابی العاص ثقفیؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں میرے بدن میں کچھ درد سا رہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار ﴿بسم الله﴾ کہو پھر سات بار یہ کہو: اعوذ باللّٰہ وقدرتہ من شرما اجد واحاذر (یعنی میں اللہ سے اس برائی سے پناہ مانگتا ہوں جسے میں پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں) [مسلم۔ ايضاً]
5۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے پھر فرماتے: ﴿اذهب الباس رب الناس واشف انت الشافي لا شفاء الاشفاء ك شفائ لا يغادر سقما﴾ (اے لوگوں کے پروردگار! یہ بیماری دور کر دے۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ شفا تیری ہی شفا ہے۔ ایسی شفا دے کہ بیماری بالکل نہ رہے) [مسلم۔ ايضاً]
6۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض پر دم جھاڑ کرتے تو فرماتے ﴿بسم الله تربة ارضنا بريقة بعضنا يشفي سقيمنا باذن ربنا﴾ (یعنی اللہ کے نام سے ہماری زمین (مدینہ) کی مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک سے کرے ہمارے مالک کے حکم سے مریض کو تندرست کر دے گی) [بخاري۔ كتاب الطب۔ باب رقية النبي صلی اللہ علیہ وسلم]
7۔
دوا سے علاج کرانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ علاج حرام اشیاء سے نہ کیا جائے لیکن دم جھاڑ کرنا کوئی مستحسن فعل نہیں۔ البتہ بعض شرائط کے تحت اس کی اجازت دی گئی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے:
1۔ سیدنا جابرؓ فرماتے ہیں کہ میرا ماموں بچھو کا منتر کیا کرتا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منتروں سے منع کر دیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منتروں کو منع کر دیا اور میں بچھو کا منتر کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکے اسے پہنچانا چاہیے۔“ [مسلم۔ كتاب السلام۔ باب استحباب رقية المريض]
2۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ ہم جاہلیت کے زمانہ میں منتر کیا کرتے تھے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے منتروں کو میرے سامنے پیش کرو۔ اگر اس میں شرک کا مضمون نہ ہو تو کچھ قباحت نہیں“ [مسلم۔ ايضاً]
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب کوئی گھر میں بیمار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر معوذات (سورۃ العلق اور سورۃ الناس) پڑھ کر پھونکتے۔ پھر جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھونکتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھیرتی۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں میرے ہاتھ سے زیادہ برکت تھی۔ [مسلم۔ ايضاً]
4۔ عثمان بن ابی العاص ثقفیؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں میرے بدن میں کچھ درد سا رہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار ﴿بسم الله﴾ کہو پھر سات بار یہ کہو: اعوذ باللّٰہ وقدرتہ من شرما اجد واحاذر (یعنی میں اللہ سے اس برائی سے پناہ مانگتا ہوں جسے میں پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں) [مسلم۔ ايضاً]
5۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے پھر فرماتے: ﴿اذهب الباس رب الناس واشف انت الشافي لا شفاء الاشفاء ك شفائ لا يغادر سقما﴾ (اے لوگوں کے پروردگار! یہ بیماری دور کر دے۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ شفا تیری ہی شفا ہے۔ ایسی شفا دے کہ بیماری بالکل نہ رہے) [مسلم۔ ايضاً]
6۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض پر دم جھاڑ کرتے تو فرماتے ﴿بسم الله تربة ارضنا بريقة بعضنا يشفي سقيمنا باذن ربنا﴾ (یعنی اللہ کے نام سے ہماری زمین (مدینہ) کی مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک سے کرے ہمارے مالک کے حکم سے مریض کو تندرست کر دے گی) [بخاري۔ كتاب الطب۔ باب رقية النبي صلی اللہ علیہ وسلم]
7۔
سورۃ فاتحہ سے بچھو کے کاٹے کا دم :۔
سیدنا ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی اصحاب عرب کے ایک قبیلہ پر پہنچے۔ لیکن انہوں نے صحابہ کی ضیافت نہ کی۔ اسی دوران ان کے سردار کو بچھو نے کاٹا۔ وہ صحابہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: تمہارے پاس بچھو کے کاٹے کی کوئی دوا یا منتر ہے؟ انہوں نے کہا: ہے تو سہی لیکن چونکہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی لہٰذا ہم معاوضہ کے بغیر منتر نہیں کریں گے۔ آخر انہوں نے کچھ بکریاں (30 بکریاں) دینا قبول کیں۔ تب ایک صحابی (خود ابو سعید خدری) نے سورۃ فاتحہ پڑھنا شروع کی۔ وہ سورۃ فاتحہ پڑھتے اور تھوک منہ میں اکٹھا کر کے زخم پر تھوک دیتے۔ وہ سردار اچھا ہو گیا۔ قبیلہ کے لوگ بکریاں لے کر آئے تو صحابہ کو تردد ہوا کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیا جائے ان بکریوں کو قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ چنانچہ جب صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ ہنس دیئے اور فرمایا: ارے تجھے یہ کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ منتر بھی ہے۔ بکریاں لے لو اور میرا حصہ بھی لگاؤ۔ [بخاري۔ كتاب الطب۔ باب الرقي بفاتحة الكتاب]
8۔
8۔
تعویذ گنڈوں کی ممانعت :۔
ابو بشیر انصاری فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں اپنے آرام کے ٹھکانے میں تھے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص (زید بن حارثہ) کے ہاتھ یہ پیغام کہلا بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں تانت یا گنڈا ہو وہ کاٹ ڈالا جائے [بخاري۔ كتاب الجهاد۔ باب ماقيل فى الجرس و نحوه فى اعناق الابل]
9۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد بیعت کے لیے حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے نو کی بیعت لی مگر ایک سے نہ لی۔ وجہ دریافت کرنے پر فرمایا کہ اس نے تعویذ پہنا ہوا ہے پھر ہاتھ ڈال کر اس کا تعویذ کاٹ ڈالا اور بیعت لے لی اور فرمایا: ﴿من علق تميمة فقد اشرك﴾ [مسند احمد ج 4 ص 75] مطبوعہ احیاء السنہ ان احادیث سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
1۔ دم جھاڑ کا مسنون طریقہ صرف یہ ہے کہ مریض پر قرآن کی آیات یا مسنون دعائیں پڑھ کر دم کر دیا جائے۔ البتہ اگر دم جھاڑ کے الفاظ کے معنی کی پوری طرح سمجھ آجائے اور اس میں شرک کی کوئی بات نہ ہو تو ایسا دم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
2۔ اس کے علاوہ جتنی بھی صورتیں مروج ہیں مثلاً تعویذ لکھ کر پانی میں گھول کر پلانا، گلے میں لٹکانا یا ران یا کلائی پر باندھنا، کپڑے پہننا، موتی وغیرہ لٹکانا سب کے سب ناجائز اور خلاف سنت اور بدعت ہیں۔
3۔ دم جھاڑ کو پیشہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کی پیشگی اجرت طے کرنا ممنوع ہے۔ البتہ بعد میں اگر کوئی اپنی خوشی سے ہدیہ دے دے تو اس کے لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ 4۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ نے جو 30 بکریاں پیشگی طے کر کے لیں تو یہ ایک استثنائی واقعہ ہے اور اس کی وجہ حدیث میں مذکور ہے۔ ایک تو وہ کافر تھے۔ دوسرے انہوں نے اہل عرب کے معروف دستور کے خلاف مسلمانوں کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا تھا۔ لہٰذا یہ بکریاں ان سے سزا کے طور پر لی گئی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس بات کی اجازت تھی کہ اگر لوگ مہمان نوازی کا حق ادا نہ کریں تو ان سے جبراً بھی وصول کیا جا سکتا ہے۔ [بخاری۔ کتاب الادب۔ باب اکرام الضیف وخدمتہ ایاہ بنفسہ]
9۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد بیعت کے لیے حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے نو کی بیعت لی مگر ایک سے نہ لی۔ وجہ دریافت کرنے پر فرمایا کہ اس نے تعویذ پہنا ہوا ہے پھر ہاتھ ڈال کر اس کا تعویذ کاٹ ڈالا اور بیعت لے لی اور فرمایا: ﴿من علق تميمة فقد اشرك﴾ [مسند احمد ج 4 ص 75] مطبوعہ احیاء السنہ ان احادیث سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
1۔ دم جھاڑ کا مسنون طریقہ صرف یہ ہے کہ مریض پر قرآن کی آیات یا مسنون دعائیں پڑھ کر دم کر دیا جائے۔ البتہ اگر دم جھاڑ کے الفاظ کے معنی کی پوری طرح سمجھ آجائے اور اس میں شرک کی کوئی بات نہ ہو تو ایسا دم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
2۔ اس کے علاوہ جتنی بھی صورتیں مروج ہیں مثلاً تعویذ لکھ کر پانی میں گھول کر پلانا، گلے میں لٹکانا یا ران یا کلائی پر باندھنا، کپڑے پہننا، موتی وغیرہ لٹکانا سب کے سب ناجائز اور خلاف سنت اور بدعت ہیں۔
3۔ دم جھاڑ کو پیشہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کی پیشگی اجرت طے کرنا ممنوع ہے۔ البتہ بعد میں اگر کوئی اپنی خوشی سے ہدیہ دے دے تو اس کے لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ 4۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ نے جو 30 بکریاں پیشگی طے کر کے لیں تو یہ ایک استثنائی واقعہ ہے اور اس کی وجہ حدیث میں مذکور ہے۔ ایک تو وہ کافر تھے۔ دوسرے انہوں نے اہل عرب کے معروف دستور کے خلاف مسلمانوں کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا تھا۔ لہٰذا یہ بکریاں ان سے سزا کے طور پر لی گئی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس بات کی اجازت تھی کہ اگر لوگ مہمان نوازی کا حق ادا نہ کریں تو ان سے جبراً بھی وصول کیا جا سکتا ہے۔ [بخاری۔ کتاب الادب۔ باب اکرام الضیف وخدمتہ ایاہ بنفسہ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ’ اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ’ یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے ‘۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
«تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
«تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61]، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61]، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔