اس آیت کی تفسیر آیت 20 میں تا آیت 22 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
21۔ 1 یعنی یوم قیامت کو جھٹلانا اور حق سے اعراض، اسلئے ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت تمہیں بالکل فراموش ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ اور آخرت کو چھوڑ دیتے [13] ہو
[13] اس جملہ معترضہ کے بعد اب پھر اصل مضمون کا تسلسل شروع ہو رہا ہے۔ کافروں کے انکار آخرت کی ایک وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ آخرت کا اقرار کر کے اپنے آپ پر پابندی لگا لینا گوارا نہیں کرتے۔ ان دو آیات میں آخرت کے انکار کی دوسری وجہ بیان کی گئی ہے کہ تم لوگ صرف نقد بہ نقد سودا کے گاہک ہو، تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ایسا کام کرو جس کا عوض اسی دنیا میں مل جائے اور جن کاموں کا اجر آخرت میں ملنے کی توقع ہو ان کاموں کو تم نظر انداز کر دیتے ہو۔ عوضانہ ادھار بھی ہو اور تمہارے خیال کے مطابق غیر یقینی بھی ہو تو پھر تم آخرت کو دنیا پر کیونکر ترجیح دے سکتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔