(آیت 53) {كَلَّابَلْلَّايَخَافُوْنَالْاٰخِرَةَ: ”كَلَّا“} یعنی ایسا تو ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ان میں سے ہر ایک کو کتاب دی جائے اور ان کے انکار کی وجہ بھی یہ نہیں، بلکہ ان کے نصیحت سے بھاگنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کا آخرت پر ایمان نہیں اور تمام خرابیوںکی جڑ یہی ہے۔ جب تک یہ لوگ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے رہیں گے آپ ان کو ان کے تقاضوں کے مطابق کوئی معجزہ بھی دکھا دیں تو وہ اسے جادو قرار دے کر ماننے سے انکار کر دیں گے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
53۔ 1 یعنی ان کے فساد کی وجہ سے ان کا آخرت پر عدم ایمان اور اس کی تکذیب ہے جس نے انہیں بےخوف کردیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ ہر گز نہیں بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ) آخرت سے [25] نہیں ڈرتے
[25] اگر ہم ایسے کھلے خط ان کے نام بھیج بھی دیں تو بھی یہ لوگ کبھی ایمان نہ لائیں گے اور اسے بھی جادو کا کرشمہ قرار دے دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ نہ ان کا آخرت پر ایمان ہے اور نہ یہ اپنے مواخذہ سے ڈرتے ہیں۔ کچھ سوچ سمجھ کر جواب تو وہی آدمی دیتا ہے جسے مواخذہ کا ڈر ہو۔ اور جو مواخذہ کا خطرہ ہی نہ سمجھتا ہو وہ جو چاہے بک دے۔ اس کا کیا بگڑتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔