ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 52

بَلۡ یُرِیۡدُ کُلُّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّؤۡتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ﴿ۙ۵۲﴾
بلکہ ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیے جائیں۔ En
اصل یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئے
En
بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52) {بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ …:} یعنی قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہونا واضح ہو جانے کے باوجود ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے تازہ لکھی ہوئی تحریر دی جائے جو ابھی تہ بھی نہ کی گئی ہو اور ان کے ہر شخص کو باقاعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خط آئے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے رسول ہیں، انھیں مان لو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے خیال میں اتنے بڑے بن رہے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت کے لیے تیار ہی نہیں، بلکہ ان کی خواہش اور تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو نبی بنا دیا جائے، اسے کتاب عطا ہو اور وہ بھی خرق عادت کے طور پر کاغذ پر لکھی ہوئی سب کے سامنے کھلی ہوئی حالت میں ان پر نازل ہو۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہر شخص ہی کو نبوت و کتاب عطا ہو جائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [الأنعام: ۱۲۴] اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے، کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں اس جیسی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی۔ اللہ بہتر جانتا ہے اس جگہ کو جہاں وہ اپنی رسالت رکھے۔ اس سے ملتا جلتا مضمون سورۂ فرقان (۲۱) میں بھی بیان ہوا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52۔ 1 یعنی ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ کی طرف سے ایک ایک کتاب مفتوح نازل ہو جس میں لکھا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ بغیر عمل کے یہ عذاب سے چھٹکارہ چاہتے ہیں، یعنی ہر ایک کو پروانہ نجات مل جائے۔ (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتاب [24] دی جائے
[24] قریشی سرداروں کا مطالبہ کہ کھلی چٹھی ہمارے نام آئے :۔
ان قریشی سرداروں میں سے ہر ایک کی آرزو یہ ہے کہ اللہ میاں کی طرف سے ایک کھلی چٹھی ان میں سے ہر ایک کے نام آئے۔ جس میں یہ مذکور ہو کہ تمہارے اس صاحب (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو میں نے ہی اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ لہٰذا تم اس پر ایمان لے آؤ۔ اس صورت میں ہی یہ ایمان لا سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔