ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 5

وَ الرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ۵﴾
اور پلیدگی کوپس چھوڑ دے۔ En
اور ناپاکی سے دور رہو
En
ناپاکی کو چھوڑ دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) {وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ:} اس کا لفظی معنی ہے اور پلیدی کو پس چھوڑ دے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی پلیدی سے علیحدہ رہو۔ رجز اور رجس ایک ہی چیز ہے، اس کا سب سے پہلا مصداق بت اور غیر اللہ کے آستانے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ» ‏‏‏‏ [الحج: ۳۰] پس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔ یعنی پلیدی سے بچو، جو بت ہیں۔ علاوہ ازیں { الزُّوْرِ } (پلیدی) میں ہر قسم کے فاسد اعتقاد، برے اخلاق، جھوٹے اقوال، قبیح اخلاق اور نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی تمام نجاستیں شامل ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں داعی کو خود کو ہر لحاظ سے پاک صاف رکھنے کی تاکید ہے، کیونکہ اگر وہ خود ہی ناپاک یا آلودہ ہو گا تو اس کی دعوت کیا اثر کرے گی؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 یعنی بتوں کی عبادت چھوڑ دے۔ یہ دراصل لوگوں کو آپ کے ذریعے سے حکم دیا جا رہا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اور گندگی سے دور [5] رہیے
[5] باطنی صفائی :۔
﴿رُجْزٌ سے مراد ظاہری میل کچیل، گندگی اور نجاست بھی ہے۔ اور باطنی یعنی دل کی نجاست یا گندگی بھی۔ اس لفظ کا اطلاق ان تمام شیطانی وساوس پر ہوتا ہے جو دل میں موجود ہوں۔ خواہ یہ غیر اللہ کی عبادت سے متعلق ہوں یا برے خیالات سے۔ اور یہ باطنی صفائی ظاہری صفائی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔