ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 4

وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿ۙ۴﴾
اور اپنے کپڑے پس پاک رکھ۔ En
اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو
En
اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) ➊ {وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ:} کافر لوگ کتنے بھی صاف ستھرے ہوں اپنے کپڑے پاک نہیں رکھتے، نہ انھیں پیشاب سے پرہیز ہوتا ہے نہ استنجا کی فکر اور نہ غسلِ جنابت کا خیال۔ حکم ہوا کہ آپ اپنے کپڑے پاک رکھیں۔ جب کپڑے پاک رکھنا ضروری ہے تو جسم پاک رکھنا تو بدرجۂ اولیٰ ضروری ہوا۔ آیت کے ظاہری الفاظ کا تقاضا یہی ہے اور سب سے پہلے مراد بھی یہی ہے۔ ہاں، محاورہ میں پاک دامنی سے مراد گناہوں کی آلودگی سے پاک ہونا بھی ہوتا ہے، اس لیے یہ معنی بھی ہے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھو۔ طبری نے پہلا معنی زیادہ ظاہر قرار دیا ہے۔
➋ { وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ } (اپنے کپڑے پاک رکھو) میں ٹخنے سے اوپر کپڑا اٹھا کر رکھنے کا حکم بھی داخل ہے، کیونکہ لٹکانے کی صورت میں اس کے پلید ہونے کا خطرہ بالکل ظاہر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یعنی قلب اور نیت کے ساتھ کپڑے بھی پاک رکھ۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ مشرکین مکہ طہارت کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور اپنے کپڑے پاک صاف [4] رکھیے
[4] دوسرا سبق : جسم اور لباس کی صفائی اور راہبانہ تصور :۔
یعنی اپنے کپڑے میل کچیل سے بھی اور نجاست سے بھی پاک صاف رکھیے۔ اور صاف ستھرا لباس استعمال کیا کیجئے اور جسم کو پاک صاف رکھیے۔ کیونکہ روح کی پاکیزگی کے لیے جسم اور لباس کی صفائی بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس آیت میں ان راہبانہ تصورات کا پورا رد موجود ہے۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ انسان جتنا گندہ اور میلا کچیلا رہے اتنا ہی وہ اللہ کے ہاں محبوب اور مقدس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں جسم اور لباس کی صفائی کی جو اہمیت ہے اس ابتدائی حکم سے اس پر پوری روشنی پڑتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔