ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 3

وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾
اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کر۔ En
اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو
En
اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3){ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ: رَبَّكَ } کو پہلے لانے سے یہ معنی پیدا ہو گیا کہ صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ { فَكَبِّرْ } میں فاء پہلے { قُمْ } کے جواب ہی میں ہے، یعنی {قُمْ فَكَبِّرْ رَبَّكَ۔} اسی طرح { وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ } اور { وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ} میں بھی فاء اسی { قُمْ } کے جواب میں ہے۔ { وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ } کے الفاظ میں صرف اپنے رب کو بڑا جان اور صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر دونوں معنی موجود ہیں، یعنی دعوت دیتے وقت کوئی کتنا بڑا سردار یا مال دار یا بادشاہ یا بدمعاش ہو اس کی بڑائی تمھاری دعوت کے لیے رکاوٹ نہ بنے، بلکہ صرف اپنے رب کو بڑا جانو۔ جب تمھارے دل و دماغ میں اور تمھاری آنکھوں کے سامنے صرف وہی بڑا ہو گا تو ساری مخلوق تمھاری نظروں میں ہیچ ہو گی اور تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام پہنچانے میں کسی کی بڑائی مانع نہیں ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کا وصف بیان فرمایا: «‏‏‏‏الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ يَخْشَوْنَهٗ وَ لَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ» ‏‏‏‏ [الأحزاب: ۳۹] وہ لوگ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے۔
دوسرے معنی ہیں صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر یعنی جاہل اور مشرک لوگ جن جن کی بڑائی مان رہے ہیں ان سب کی نفی کر دو اور صاف اعلان کر دو کہ اس کائنات میں بڑائی صرف اللہ کی شان ہے، اس کے علاوہ بڑا بننا کسی کا حق ہی نہیں ہے، اس لیے عبادت کے لائق بھی صرف اسی کی ہستی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان [3] کیجیے
[3] پہلا سبق اللہ کی کبریائی :۔
یعنی دنیا میں جتنے لوگ بڑے بنے بیٹھے ہیں۔ ان سب کی بڑائیاں اللہ کی بڑائی کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز بڑے بڑے حکمران اور ان کی حکومتیں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے سامنے کوئی چیز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ کی کبریائی، بزرگی اور بڑائی سے پوری طرح روشناس کرائیے۔ اور زبان سے بھی اللہ کی بڑائی بیان کرتے رہا کیجئے۔ اسی حکم کی وجہ سے اسلام میں تکبیر یا کلمہ اللہ اکبر کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ہر اذان میں چھ بار یہ کلمہ دہرایا جاتا ہے۔ اور ہر نماز کا افتتاح بھی اسی تکبیر سے ہوتا ہے۔ پھر رکوع جاتے وقت، سجدہ کے وقت، سجدہ سے اٹھتے وقت غرض نماز کی ہر رکعت میں متعدد بار اللہ اکبر کہا جاتا ہے۔ پھر نماز کے بعد تکبیر و تہلیل کی بہت فضیلت آئی ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ایک مسلمان کے سامنے ہر وقت اللہ کی کبریائی کا تصور موجود رہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔