ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 28

لَا تُبۡقِیۡ وَ لَا تَذَرُ ﴿ۚ۲۸﴾
وہ نہ باقی رکھتی ہے اور نہ چھوڑتی ہے۔ En
(وہ آگ ہے کہ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی
En
نہ وه باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28){ لَا تُبْقِيْ وَ لَا تَذَرُ: لَا تُبْقِيْ أَبْقٰي يُبْقِيْ} (افعال) باقی رکھنا۔ {أَبْقٰي عَلَيْهِ } رحم کرنا۔ یعنی وہ ان کی کوئی چیز جلانے سے باقی نہیں رکھے گی، اس پر بھی انھیں چھوڑے گی نہیں کہ ان کا قصہ تمام ہو جائے، بلکہ انھیں دوبارہ پہلے کی طرح بنا دیا جائے گا اور جہنم پھر انھیں جلائے گی، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ» ‏‏‏‏ [النساء: ۵۶] جب بھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم انھیں ان کے علاوہ اور کھالیں بدل دیں گے، تاکہ وہ عذاب چکھیں۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى» [الأعلٰی: ۱۳] پھر وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ اگر { لَا تُبْقِيْ } کے بعد {عَلَيْهِمْ} مقدر مانیں تو معنی ہو گا نہ وہ ان پر رحم کرے گی اور نہ انھیں چھوڑے گی۔ یہ معنی بھی درست ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 ان کے جسموں پر گوشت چھوڑے گی نہ ہڈی، یا مطلب ہے جہنمیوں کو زندہ چھوڑے گی نہ مردہ،

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ وہ نہ باقی رکھے گی [12] نہ چھوڑے گی
[12] یعنی جہنم کی آگ دوزخیوں کو مسلسل جلاتی بھی رہے گی لیکن اس عذاب سے کسی کی موت واقع نہ ہو گی۔ آگ سے ان کی کھالیں جل جائیں گی بلکہ گل جائیں گی تو انہیں دوسری نئی کھالیں مہیا کر دی جائیں گی تاکہ وہ مسلسل اور دائمی عذاب میں مبتلا رہ سکیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔