ترجمہ و تفسیر — سورۃ المزمل (73) — آیت 6

اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیۡلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّ اَقۡوَمُ قِیۡلًا ؕ﴿۶﴾
بلاشبہ رات کو اٹھنا(نفس کو) کچلنے میں زیادہ سخت اور بات کرنے میں زیادہ درستی والا ہے۔ En
کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی) کو سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے
En
بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب ہے اور بات کو بہت درست کر دینے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ {اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ …: نَاشِئَةَ الَّيْلِ } (رات کا اٹھنا) {نَشَأَ يَنْشَأُ} (ف، ک) کا مصدر بروزن {عَافِيَةٌ} اور {كَاذِبَةٌ} ہے۔ { نَشَأَ مِنْ مَّكَانِهِ} وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ { وَطْاً وَطِئَ يَطَأُ} (س) کا مصدر ہے، پاؤں سے روندنا، کچلنا۔ { اَقْوَمُ } زیادہ سیدھا، زیادہ درست۔ { قِيْلًا قَوْلاً} کی طرح مصدر ہے۔
➋ یعنی رات کا اٹھنا طبیعت پر بہت بھاری اور نفس کو کچلنے میں دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ واضح رہے کہ جو لوگ زیادہ سے زیادہ جسمانی ایذا برداشت کر لیتے ہیں بے خوابی کی ایذا کے سامنے ان کے حوصلے بھی جواب دے جاتے ہیں۔ نیند جیسی مرغوب چیز چھوڑ کر قیام کا مشکل ترین عمل کرنے سے نفس میں مشقت اٹھانے کی اتنی قوت پیدا ہو گی کہ وہ وحی الٰہی کو اٹھانے اور تبلیغ رسالت کے بھاری بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ { اَقْوَمُ قِيْلًا } رات کو جب ہر طرف خاموشی ہوتی ہے اور لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں اس وقت اٹھ کر آدمی اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس مبارک وقت میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہوتی جو اس کی توجہ خراب کرے، اس وقت منہ سے نکلنے والے الفاظ زبان اور دل دونوں سے نکل رہے ہوتے ہیں اور اس عمل میں کسی دکھاوے یا سناوے کی آمیزش بھی نہیں ہوتی، کیونکہ کوئی دوسرا نہ دیکھتا ہے نہ سن رہا ہوتا ہے، اس لیے اسے بات کرنے میں زیادہ درست قرار دیا۔ پھر رات کا آخری حصہ خاص قبولیت کا وقت بھی ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالٰی كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِيْنَ يَبْقٰی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُوْلُ مَنْ يَّدْعُوْنِيْ فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ؟ مَنْ يَّسْأَلُنِيْ فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَّسْتَغْفِرُنِيْ فَأَغْفِرَ لَهُ؟] [بخاري، التہجد، باب الدعاء والصلاۃ من آخر اللیل: ۱۱۴۵۔ مسلم: ۷۵۸] ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری ثلث باقی ہوتا ہے، فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش کی درخواست کرے اور میں اسے بخشوں؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دن کے مقابلے میں رات کو قرآن زیادہ واضح اور حضور قلب کے لئے زیادہ موثر ہے، اس لئے کہ اس وقت دوسری آوازیں خاموش ہوتی ہیں۔ فضا میں سکون غالب ہوتا ہے اس وقت نمازی جو پڑھتا ہے وہ آوازوں کے شور اور دنیا کے ہنگاموں کے نذر نہیں ہوتا بلکہ نمازی اس سے خوب محفوظ ہوتا اور اس کی اثر آفرینی کو محسوس کرتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ رات کا اٹھنا [6] یقیناً (نفس کو) بہت زیر [7] کرنے والا ہے اور قرآن پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں [8] وقت ہے۔
[6] تہجد کا لغوی مفہوم :۔
پانچ نمازوں کی فرضیت تو معراج کو ہوئی تھی۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی یہی رات کی نماز ہی پڑھا کرتے تھے۔ نماز با جماعت کا بھی کوئی اہتمام یا حکم نہیں تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اپنے گھروں میں یہ نماز اپنے اپنے طور پر ادا کر لیا کرتے تھے۔ جب معراج میں پانچ وقت نمازیں فرض ہوئیں تو یہ نماز صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فرض رہ گئی باقی مسلمانوں سے اس کی فرضیت ساقط کر دی گئی۔ البتہ اس کے ادا کرنے کی ترغیب ضرور دی گئی۔ اب اس نماز کی حیثیت عام مسلمانوں کے لیے سنت موکدہ کی ہے۔ اس کے اوقات بھی مختلف تھے۔ کئی مسلمان اسے رات کے ابتدائی حصہ میں ادا کر لیا کرتے تھے۔ بعض دوسرے پچھلے حصہ میں یہ نماز ادا کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کی ایک صورت وہ تھی جو اوپر سیدہ ام سلمہؓ کی روایت میں مذکور ہے۔ اور لغوی لحاظ سے لفظ تہجد یا ھجود کا یہی معنی ہے۔ یعنی رات بھر میں کئی بار سونا بھی اور جاگنا بھی۔ پھر جب پانچ نمازیں فرض ہو گئیں تو بھی یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فرض ہی رہی اور اس کا وقت نصف شب سے لے کر طلوع فجر تک قرار پا لیا۔ یعنی اس عرصہ کے درمیان کسی بھی وقت یہ نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ ان آیات سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوا کہ سورۃ مزمل کے نزول سے پہلے قرآن کا اتنا حصہ نازل ہو چکا تھا جسے اس لمبی نماز میں ترتیل کے ساتھ پڑھا جا سکتا تھا۔
[7] وَطَأ بمعنی روندنا، پامال کرنا، سب کس بل نکال دینا۔ یعنی رات کو جاگ کر اپنے نفس کو اللہ کی عبادت پر آمادہ کرنا نفس کی سرکشی کو دور کرنے اور اس کے کس بل نکالنے کے لیے بہت موثر علاج ہے۔ البتہ اس سے نفس کو کوفت بہت ہوتی ہے۔ اور ﴿وَطَأ عَلَي الاَمْرِ کا دوسرا معنی کسی کام کو اپنی مرضی کے موافق آسان بنا لینا بھی ہے۔ گویا شب بیداری اگرچہ نفس پر بہت گرانبار ہے تاہم یہ نفس کی اصلاح کے لیے اور جس کام کے لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کرنا چاہتے ہیں، نہایت مناسب اور مفید رہے گی۔
[8] ﴿أقْوَمُ قِيْلاً یعنی بات کو زیادہ درست بنانے والا۔ یعنی شب بیداری کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس وقت دل و دماغ تازہ ہوتے ہیں۔ شور و غل نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس وقت جو قرآن پڑھا جائے گا۔ طبیعت پوری توجہ سے اس میں غور و فکر کرے گی۔ گویا قرآن کے مطالب سمجھنے اور اس سے اثر پذیری کے لیے یہ وقت موزوں ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔