(آیت 5) ➊ { اِنَّاسَنُلْقِيْعَلَيْكَ …:} اس آیت میں اور اس کے بعد والی دو آیتوں میں رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ وحی الٰہی کا بھاری بوجھ اٹھانے کی استعداد پیدا کرنے کے لیے رات کا قیام اور اس میں پورے غورو فکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہایت ضرور ی ہے۔ ➋ { ”قَوْلًاثَقِيْلًا“} (بھاری کلام) سے مراد وحی الٰہی ہے جو اترتے وقت بھی بھاری ہے، ہر کلام اور ہر چیز سے بھاری ہے، اس پر عمل بھاری ہے اور اسے تمام دنیا تک پہنچانے کا فریضہ بھی بہت بھاری ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: (1) نزول وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بوجھ پڑتا تھا، جسے برداشت کرنا آپ پر بہت بھاری تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ سخت سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوتی اور جب وہ حالت ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینا ٹپک رہا ہوتا۔ [بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي: ۲] زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی ران میری ران پر تھی، آپ کی ران کا اتنا بوجھ تھا، قریب تھا کہ وہ میری ران کو کچل دے۔ [دیکھیے بخاري: ۲۸۳۲] عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوتے، آپ پر وحی اترتی تو اونٹنی زمین پر گردن رکھ دیتی۔ [دیکھیے مسند أحمد: 118/6، ح: ۲۴۹۲۱](2) یہ کلام دوسرے تمام کلاموں سے بھاری ہے، باقی سب کلام اس کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔ (3) اس کے احکام پر عمل کرنا بھاری ہے۔ فرائض پنج گانہ اور دوسرے احکام بجا لانا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا نفس پر بہت بھاری ہے۔ (4) یہ اس لیے بھی بھاری ہے کہ اسے تمام دنیا کے لوگوں تک پہنچانے کا حکم ہے جو نہایت دشوار کام ہے۔ اس کے لیے آپ کو لوگوں کی مخالفت، طعن و ملامت، ٹھٹھا و مذاق، گالی گلوچ، جسمانی ایذا، قتل کی سازشیں اور ہجرت و جہاد سب کچھ برداشت کرنا ہوگا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 رات کا قیام چونکہ نفس انسانی کے لئے بالعموم گراں ہے، اس لئے یہ جملہ خاص طور پر فرمایا کہ ہم اس سے بھی بھاری بات تجھ پر نازل کریں گے، یعنی، قرآن، جس کے احکام و فرائض پر عمل، اس کی حدود کی پابندی اور اس کی تبلیغ اور دعوت، ایک بھاری جانفسانی کا عمل ہے۔ بعض نے ثقالت سے وہ بوجھ مراد لیا ہے جو وحی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑتا تھا جس سے سخت سردی میں بھی آپ پسینے سے شرابور ہوجاتے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ بلا شبہ ہم آپ پر ایک بھاری کلام [5] نازل کرنے والے ہیں
[5] عظیم ذمہ داری کیا ہے؟
بھاری کلام سے مراد وہ احکام ہیں جو معاشرہ میں انقلاب کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے جانے والے تھے۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان احکام پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کے سامنے عملی نمونہ پیش کرنا تھا پھر اس دعوت کو ساری دنیا کے سامنے پیش کرنا اور ان کے مقابلہ میں اٹھنا تھا۔ مشرکانہ عقائد کے خلاف اور جاہلی تہذیب و تمدن کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن معاشرہ میں محبت و موانست اور بھائی بندی کی فضا پیدا کرنا تھی۔ پھر انہی کو متحد کر کے پوری دنیائے کفر سے ٹکر لینا تھی اور اللہ کی مہربانی اور مدد کے ساتھ دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ کے مقابلہ میں غالب کرنا تھا۔ یہ تھیں وہ عظیم ذمہ داریاں جن کی آپ کو ﴿سَنُلْقِيْعَلَيْكَقَوْلًاثَـقِيْلًا﴾ کے ذریعہ اطلاع دی گئی اور اسی فریضہ کی تربیت کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کا ایک حصہ اللہ کی عبادت میں گزارنے کا حکم دیا گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔