ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجن (72) — آیت 8

وَّ اَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ فَوَجَدۡنٰہَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا ۙ﴿۸﴾
اور یہ کہ بے شک ہم نے آسمان کو ہاتھ لگایا تو ہم نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ سخت پہرے اور چمکدار شعلوں سے بھر دیا گیا ہے۔ En
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے سے بھرا پایا
En
اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9،8) ➊ { وَ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ …:} اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمان کی زینت کے علاوہ ان شیاطین سے حفاظت کا ذریعہ بھی بنایا ہے جو آسمان کے قریب جا کر فرشتوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو ہٹانے کے لیے ہر طرف سے ان پر شہابوں(انگاروں) کی بارش ہوتی ہے۔ (دیکھیے صافات: ۶ تا ۱۰) عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ، فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِيْنُ السَّمْعَ، فَتَسْمَعُهُ فَتُوْحِيْهِ إِلَی الْكُهَّانِ، فَيَكْذِبُوْنَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ] [بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللّٰہ علیھم: ۳۲۱۰] فرشتے عنان یعنی بادل میں اترتے ہیں اور (آپس میں) اس بات کا ذکر کرتے ہیں جس کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے، تو شیطان چوری سے وہ بات سننے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے سن لیتے ہیں، پھر وہ یہ بات کاہنوں کو چپکے سے پہنچا دیتے ہیں، پھر کاہن اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
➋ {مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّ شُهُبًا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی عالم بالا کی حفاظت کا انتظام تھا، مگر جن کوئی نہ کوئی بات سن لیتے تھے اور انھیں بالائی فضا میں چھپ کر بیٹھنے کی بھی کوئی نہ کوئی جگہ مل جاتی تھی، اب (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد) جب وہ سننے کے لیے اوپر گئے تو ساری بالائی فضا سخت پہرے اور مسلسل شہابوں کی بارش سے بھری ہوئی تھی۔ { مُلِئَتْ } سے معلوم ہو رہا ہے کہ اب پہرے کا نظام پہلے سے بہت سخت ہو گیا تھا۔ اس سے انھیں پریشانی ہوئی اور وہ تلاش میں نکلے کہ اس بندوبست کا باعث کیا ہے؟ جیسا کہ اس سورت کی شان نزول میں گزر چکا ہے۔
➌ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن انسانوں سے الگ مخلوق ہیں جو مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے پیدا کیے گئے ہیں اور جو انسان کی پیدائش سے پہلے موجود تھے۔ جن آسمان کے قریب جا سکتے ہیں اور بعض اوقات عالم بالا کی ایک آدھ بات چرا سکتے ہیں، انھیں انسانوں ہی میں سے سرکش قوم یا چھپے ہوئے جراثیم قرار دے کر ان کا انکار کر دینا قرآن و حدیث کا انکار ہے۔ کسی چیز کے انکار کی یہ بنیاد کہ اگر وہ موجود ہوتی تو نظر آتی، بے حد کمزور بنیاد ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (38،27)، ہود (۱۱۹)، حم سجدہ (۲۵، ۲۹) اور سورۂ احقاف (۱۸، ۲۹، ۳۲)۔ آدم اور ابلیس کا قصہ جو قرآن مجید میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے اور سورۂ رحمان پوری اس بات کی شاہد ہے کہ جن اور انسان الگ الگ مخلوق ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 یعنی آسمانوں پر فرشتے چوکیداری کرتے ہیں کہ آسمانوں کی کوئی بات کوئی اور نہ سن لے اور یہ ستارے آسمان پر جانے والے شیاطین پر شعلہ بن کر گرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ اور یہ کہ: ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جنات ٭٭
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے جنات آسمانوں پر جاتے کسی جگہ بیٹھتے اور کان لگا کر فرشتوں کی باتیں سنتے اور پھر آ کر کاہنوں کو خبر دیتے تھے اور کاہن ان باتوں کو بہت کچھ نمک مرچ لگا کر اپنے ماننے والوں سے کہتے۔ اب جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو آسمان پر زبردست پہرے بٹھا دیئے گئے اور ان شیاطین کو پہلے کی طرح وہاں جا بیٹھنے اور باتیں اڑا لانے کا موقعہ نہ رہا، تاکہ قرآن اور کاہنوں کا کلام خلط ملط نہ ہو جائے اور حق کے متلاشی کو دقت واقع نہ ہو۔
یہ مسلمان جنات اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم آسمان پر جا بیٹھتے تھے مگر اب تو سخت پہرے لگے ہوئے ہیں اور آگ کے شعلے تاک لگائے ہوئے ہیں ایسے چھوٹ کر آتے ہیں کہ خطا ہی نہیں کرتے جلا کر بھسم کر دیتے ہیں، اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس سے حقیقی مراد کیا ہے؟ اہل زمین کی کوئی برائی چاہی گئی ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب کا ارادہ نیکی اور بھلائی کا ہے؟
خیال کیجئے کہ یہ مسلمان جن کس قدر ادب داں تھے کہ برائی کی اسناد کے لیے کسی فاعل کا ذکر نہیں کیا اور بھلائی کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی اور کہا کہ دراصل آسمان کی اس نگرانی اس حفاظت سے کیا مطلب ہے، اسے ہم نہیں جانتے۔
ستارے کیوں جھڑتے ہیں؟ ٭٭
اسی طرح حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ { الہٰی تیری طرف سے شر اور برائی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:771]‏‏‏‏
ستارے اس سے پہلے بھی کبھی کبھی جھڑتے تھے لیکن اس طرح کثرت سے ان کا آگ برسانا قرآن کریم کی حفاظت و صیانت کے باعث ہوا تھا، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ { ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ناگہاں ایک ستارہ ٹوٹا اور بڑی روشنی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت فرمایا کہ پہلے اسے جھڑتا دیکھ کر تم کیا کہا کرتے تھے؟ ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! ہمارا خیال تھا کہ یا تو یہ کسی برے آدمی کے تولد پر ٹوٹتا ہے یا کسی بڑے کی موت پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب کبھی کسی کام کا آسمان پر فیصلہ کرتا ہے } الخ۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2229]‏‏‏‏ یہ حدیث پورے طور پر سورۃ سباء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
دراصل ستاروں کا بکثرت گرنا، جنات کا ان سے ہلاک ہونا، آسمان کی حفاظت کا بڑھ جانا، ان کا آسمان کی خبروں سے محروم ہو جانا ہی اس امر کا باعث بنا کر یہ نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے چاروں طرف تلاش کر دی کہ کیا وجہ ہوئی کہ ہمارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا چنانچہ ان میں سے ایک جماعت کا گزر عرب میں ہوا اور یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز میں قرآن شریف پڑھتے ہوئے سنا اور سمجھ گئے کہ اس نبی کی بعثت اور اس کلام کا نزول ہی ہماری بندش کا سبب ہے، پس خوش نصیب سمجھدار جن تو مسلمان ہو گئے، باقی جنات کو ایمان نصیب نہ ہوا۔
سورۃ الأحقاف کی آیت «‏‏‏‏وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [46-الأحقاف:29]‏‏‏‏ میں اس کا پورا بیان گزر چکا ہے۔
ستاروں کا ٹوٹنا آسمان کا محفوظ ہو جانا جنات ہی کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بھی ایک خوفناک علامت تھی، وہ گھبرا رہے تھے اور منتظر تھے کہ دیکھئیے نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اور عموماً انبیاء علیہم السلام کی تشریف آوری اور دین اللہ کے اظہار کے وقت ایسا ہوتا بھی تھا۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شیاطین اس سے پہلے آسمانی بیٹکھوں میں بیٹھ کر فرشتوں کی آپس کی باتیں اڑا لایا کرتے تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر بنائے گئے تو ایک رات ان شیاطین پر بڑی شعلہ باری ہوئی جسے دیکھ کر اہل طائف گھبرا گئے کہ شاید آسمان والے ہلاک ہو گئے انہوں نے دیکھا کہ تابڑ توڑ ستارے ٹوٹ رہے ہیں، شعلے اڑ رہے ہیں اور دور دور تک تیزی کے ساتھ جا رہے ہیں انہوں نے اپنے غلام آزاد کرنے، اپنے جانور راہ اللہ چھوڑنے شروع کر دیئے۔ آخر عبد یا لیل بن عمرہ بن عمیر نے ان سے کہا کہ اے طائف والو! تم کیوں اپنے مال برباد کر رہے ہو؟ تم نجوم دیکھو اگر ستاروں کو اپنی اپنی جگہ پاؤ تو سمجھ لو کہ آسمان والے تباہ نہیں ہوئے بلکہ یہ سب کچھ انتظامات صرف ابن ابی کبشہ کے لیے ہو رہے ہیں (‏‏‏‏یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے) اور اگر تم دیکھو کہ فی الحقیقت ستارے اپنی مقررہ جگہ پر نہیں تو بیشک اہل آسمان کو ہلاک شدہ مان لو، انہوں نے نجوم دیکھا تو ستارے سب اپنی اپنی مقررہ جگہ پر نظر آئے تب انہیں چین آیا۔
شیاطین میں بھاگ دوڑ مچ گئی یہ ابلیس کے پاس آئے واقعہ کہہ سنایا تو ابلیس نے کہا، میرے پاس ہر ہر علاقے کی مٹی لاؤ، چنانچہ لائی گئی، اس نے سونگھی اور سونگھ کر بتایا کہ اس کا انقلاب کا سبب مکہ میں ہے، سات جنات نصیبین کے رہنے والے مکہ پہنچے یہاں حضور علیہ السلام مسجد الحرام میں نماز پڑھا رہے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے جسے سن کر ان کے دل نرم ہو گئے بہت ہی قریب ہو کر قرآن سنا پھر اس کے اثر سے مسلمان ہوگئے اور اپنی قوم کو بھی دعوت اسلام دی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ہم نے اس تمام واقعہ کو پورا پورا اپنی کتاب السیرۃ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے آغاز کے بیان میں لکھا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»