ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجن (72) — آیت 24

حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا ﴿۲۴﴾
(یہ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز دیکھ لیں گے جس کاان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مدد گار کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے اور جو تعداد میں زیادہ کم ہے؟ En
یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے
En
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24) {حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ …:} یعنی کفار اپنی تعداد کی کثرت اور اپنے مددگاروں کی قوت پر فخر اور مسلمانوں کی قلت تعداد اور کمزوری پر طعن کرتے ہیں تو کرتے رہیں، یہ سب کچھ تھوڑے وقت کے لیے ہے، یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ چیز (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو اس وقت انھیں معلوم ہو گا کہ مدد گاروں کے لحاظ سے کمزور اور تعداد میں کم کون ہے؟ وہ چیز جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے مراد اسلام کا غلبہ اور کفار کی شکست بھی ہے، جیسا کہ بدر، خندق، فتح مکہ اور حنین میں انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، کفار پر خوف اور قحط کا مسلط ہونا بھی ہے اور مرتے وقت فرشتوں کا ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارنا بھی، قبر کا عذاب بھی ہے، قیامت کی ہولناکی اور جہنم کی آگ بھی۔ درجہ بدرجہ یہ سب کچھ دیکھتے جانے کے ساتھ ہی ان پر اپنی تعداد کی کثرت اور حمایتیوں کی قوت کی حقیقت کھلتی جائے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24۔ 1 یا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کی عداوت اور اپنے کفر پر مصر رہیں گے، یہاں تک کہ دنیا یا آخرت میں وہ عذاب دیکھ لیں گے، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ 24۔ 2 یعنی اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ مومنوں کا مددگار کمزور ہے یا مشرکوں کا؟ اہل توحید کی تعداد کم ہے یا غیر اللہ کے پجاریوں کی۔ مطلب یہ ہے کہ پھر مشرکین کا تو سرے سے کوئی مددگار ہی نہیں ہوگا اور اللہ کے ان گنت لشکروں کے مقابلے میں ان مشرکین کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ (یہ لوگ اپنی روش سے باز نہیں آئیں گے) تا آنکہ وہ (عذاب) دیکھ نہ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ پھر جلد ہی انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور اور گنتی [22] میں کم ہیں
[22] یہ ہجوم کرنے والے مشرک آج تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان مسلمانوں کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے۔ ہم ان پر ہجوم کر کے ہی انہیں مرعوب کر سکتے ہیں۔ لیکن عنقریب ایک وقت آنے والا ہے جب انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سے فریق کی تعداد تھوڑی ہے اور اس کے مددگار کم ہیں اور یہ وقت فتح مکہ کا دن بھی ہو سکتا ہے اور قیامت کا دن تو بہرحال یقینی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔