(آیت 17) {لِنَفْتِنَهُمْفِيْهِوَمَنْيُّعْرِضْ …:} یعنی پانی کی کثرت اور رزق کی فراوانی کا مقصد بھی ان کی آزمائش ہے کہ وہ خوش حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کی توحید و اطاعت پر قائم رہتے ہیں یا بد مست ہو کر سرکشی پر اتر آتے ہیں۔ معلوم ہوا مصیبت کی طرح نعمت بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔سورۂ انبیاء (۳۵)، اعراف (۱۶۸) اور سورۂ قلم (۱۷تا ۲۰) میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ {”صَعَدًا“”صَعِدَيَصْعَدُ“} (ع) کا مصدر ہے۔ لفظی معنی چڑھائی ہے، مراد ایسا سخت عذاب ہے جو دم بدم بڑھتا ہی جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب کفار قریش پر قحط سالی مسلط کردی گئی تھی، الطَّرِیْقَۃٍ کے دوسرے معنی گمراہی کے راستے کے کئے گئے ہیں۔ 17۔ 2 نہایت سخت الم ناک عذاب (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ تاکہ اس نعمت [14] سے ان کی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے منہ موڑے گا تو وہ اسے سخت عذاب میں مبتلا [15] کر دے گا
[14] نعمتوں سے آزمائش کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آیا وہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر اللہ کا شکر بجا لانے اور اس کی اطاعت میں مزید ترقی کرتے ہیں یا اللہ کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں یا ناشکری کر کے اصل سرمایہ بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ [15] یعنی اس کی زندگی میں اس کی پریشانیاں بڑھتی ہی جائیں گی کسی کل چین نصیب نہ ہو گا اور آخرت میں یہ حال ہو گا کہ ہر آن اس کے عذاب میں اضافہ ہی کیا جاتا رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔