(آیت 16){ وَاَنْلَّوِاسْتَقَامُوْاعَلَىالطَّرِيْقَةِ …:} اس کا عطف {”اَنَّهُاسْتَمَعَنَفَرٌمِّنَالْجِنِّ …“} پر ہے اور {”وَاَنْلَّوِاسْتَقَامُوْا“} کا اصل {”وَأَنَّهُمْلَوِاسْتَقَامُوْا“} ہے، یعنی کہہ دے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا… اور میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ (یعنی قریش مکہ یا تمام بنی آدم اور جن) اصل راستے پر سیدھے چلتے رہتے تو ہم انھیں وافر پانی پلاتے۔ {”غَدَقًا“} کا معنی کثیر ہے۔ وافرپانی سے مراد وافر رزق ہے، کیونکہ زمین سے حاصل ہونے والی تمام برکات بارش ہی سے حاصل ہوتی ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر بیان فرمائی ہے: «وَلَوْاَنَّاَهْلَالْقُرٰۤىاٰمَنُوْاوَاتَّقَوْالَفَتَحْنَاعَلَيْهِمْبَرَكٰتٍمِّنَالسَّمَآءِوَالْاَرْضِ»[الأعراف: ۹۶]”اور اگر ان بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکات کھول دیتے۔“ سورۂ نوح (۱۰ تا ۱۲) اور سورۂ مائدہ (۶۶) میں بھی یہی بات بیا ن ہوئی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ اور اگر لوگ سیدھی راہ پر قائم رہتے تو ہم انہیں با افراط [13] پانی سے سیراب کرتے
[13] اللہ کی فرمانبرداری اور رزق کی فراوانی :۔
یعنی جن اور انسان اللہ کے فرمانبردار بن کر رہتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور رزق کی فراوانی کردیتے۔ اور یہ وہی مضمون ہے جو پہلے سورة نوح کی آیت نمبر 11، 12 کے تحت گزر چکا ہے تفصیل کے لئے دیکھئے سورة نوح کا حاشیہ نمبر 5
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔