ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجن (72) — آیت 14

وَّ اَنَّا مِنَّا الۡمُسۡلِمُوۡنَ وَ مِنَّا الۡقٰسِطُوۡنَ ؕ فَمَنۡ اَسۡلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوۡا رَشَدًا ﴿۱۴﴾
اور یہ کہ ہم میں سے کچھ فرماںبردار ہیں اور ہم میں سے کچھ ظالم ہیں، پھر جو فرماں بردار ہوگیا تو وہی ہیں جنھوں نے سیدھے راستے کا قصد کیا۔ En
اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں۔ تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے
En
ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بےانصاف ہیں پس جو فرماں بردار ہوگئے انہوں نے تو راه راست کا قصد کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15،14) ➊ {وَ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ …: الْقٰسِطُوْنَ } ظلم کرنے والے، راہِ حق سے ہٹنے والے۔ {قَسَطَ يَقْسِطُ} (ض) {قَسْطًا} (قاف کے فتحہ کے ساتھ) ظلم کرنا، سیدھی راہ سے ہٹنا۔{ اَلْقِسْطُ} (قاف کے کسرہ کے ساتھ) انصاف۔ {أَقْسَطَ يُقْسِطُ} (افعال) انصاف کرنا۔ یعنی ہدایت سننے کے بعد ہم میں سے کچھ وہ ہیں جو تابع فرمان ہو گئے۔ یہ وہ ہیں جن کا ارادہ ہے کہ پوری کوشش کے ساتھ سیدھی راہ پر چلیں۔ {تَحَرّٰي يَتَحَرّٰي تَحَرِّيًا} قصد کرنا، کوشش کے ساتھ ظن سے یقین تک پہنچنا۔ اور جو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
➋ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن آگ سے پیدا کیے گئے ہیں، وہ جہنم کا ایندھن کیسے بنیں گے؟ جواب یہ ہے کہ جس طرح انسان مٹی سے بنا ہے مگر مٹی کا ڈھیلا مارا جائے تو اسے تکلیف ہوتی ہے اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا ہوئی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ» ‏‏‏‏ [الأنبیاء: ۳۰] (اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی) مگر یہی پانی اسے غرق کر دیتا ہے۔ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، مگر یہی پانی جنوں کے لیے جو آگ سے بنے ہیں نعمت ہے، جیساکہ سورۂ رحمن کی آیات(۵۰، ۶۶) میں ہے اور اسی سورۂ جن کی آیت (۱۶) میں آرہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ آگ سے پیدا کیے جانے کے باوجود جنوں کی ایک الگ شکل و صورت ہے جو آگ سے متاثر ہوتی ہے، جس طرح گوشت پوست کا انسان مٹی سے پیدا ہونے کے باوجود مٹی سے الگ شکل و صورت رکھتا ہے۔ یہاں سے جنوں کی تقریر جو اللہ تعالیٰ نے نقل فرمائی ہے ختم ہوئی، آئندہ آیات میں دوبارہ اللہ تعالیٰ کا خطاب شروع ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 یعنی جو نبوت محمدیہ پر ایمان لائے وہ مسلمان، اور اس کے منکر بےانصاف ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ اور یہ کہ: ہم میں سے کچھ تو مسلمان (فرمانبردار) ہیں اور کچھ بے انصاف لوگ ہیں اور جو فرمانبردار بن گیا تو ایسے ہی لوگوں نے بھلائی کا راستہ اختیار [12] کیا
[12] ﴿تَحَرَّوْا ﴿اَحرٰي بمعنی لائق تر اور ﴿تَحَرَّي بمعنی زیادہ مناسب اور لائق تر چیز کو طلب کرنا۔ دو چیزوں میں سے زیادہ بہتر کو طلب کرنا۔ یعنی ایمان لانے والے جن اپنی قوم میں واپس آکر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ بلا شبہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ نافرمان اور بے راہ رو بھی ہیں۔ اور حق بات یہی ہے کہ جو لوگ اسلام لے آئے انہوں نے عقلمندی کی۔ ہدایت کی راہ کو پسند کر لینا ہی ان کے بہتر انتخاب کی دلیل ہے۔ کیونکہ جو لوگ اس سیدھی راہ کے علاوہ کوئی اور راہیں اختیار کریں گے وہ گھاٹے میں ہی رہیں گے اور جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اس مقام پر جنوں کی وہ تقریر یا وعظ و نصیحت ختم ہو جاتی ہے جو انہوں نے ایمان لانے کے بعد واپس آکر اپنے بھائی بندوں کو کی۔ چنانچہ بہت سے جن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے پھر اس واقعہ کے بعد متعدد بار جن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں، نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں، جیسے اور جگہ ہے «فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا» ۱؎ [20-طه:112]‏‏‏‏ یعنی ’ نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں ‘۔
پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں۔
اس کے بعد کی آیت «‏‏‏‏وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاءً غَدَقًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [72- الجن:16]‏‏‏‏، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [5-المائدة:66]‏‏‏‏ یعنی ’ اگر یہ توراۃ وانجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں ‘۔
اور فرمان ہے «‏‏‏‏وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:96]‏‏‏‏، یعنی ’ اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لیے کہ ان کی پختہ جانچ ہو جائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے ‘۔
مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہو جائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہو جائیں۔
جیسے فرمان باری ہے «فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:44]‏‏‏‏، یعنی ’ جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہو گئے ‘۔
اسی طرح کی آیت «‏‏‏‏اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:56-55]‏‏‏‏، بھی ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بے پرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «صَعَدًا» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔