اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کیا ان لوگوں کے ساتھ جو زمین میں ہیں، کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے، یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔
En
اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے
(آیت 10) {وَاَنَّالَانَدْرِيْۤاَشَرٌّاُرِيْدَ …:} اتنے سخت پہرے دیکھ کر جنوں نے سمجھ لیا کہ دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے، یا تو اہل زمین کے ساتھ شر کا ارادہ کیا گیا ہے، یعنی کسی قوم پر اچانک عذاب آنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور خبروں پر پہرا لگ گیا ہے، تاکہ اس قوم کو وقت سے پہلے اطلاع نہ ہوجائے، یا اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی اور ہدایت کا ارادہ کیا ہے، یعنی کوئی رسول مبعوث ہوا ہے جس کی طرف بھیجی جانے والی وحی کی حفاظت کے لیے یہ انتظام کیا گیا ہے، تاکہ شیطان نہ اس میں کوئی دخل دے سکیں اور نہ پہلے معلوم کرسکیں کہ پیغمبر کی طرف کیا وحی کی جا رہی ہے۔ جب وہ اس جستجو کے لیے نکلے کہ ان دو باتوں میں سے کون سی بات حق ہے تو انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پڑھتے ہوئے سن کر معلوم ہو گیا کہ یہ بندوبست اسی رسول کی وجہ سے ہے۔ اس آیت میں جنوں کے اس گروہ کا حسنِ ادب ملاحظہ ہو کہ ارادۂ رشد کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے اور ارادۂ شر کی نسبت اس کی طرف نہیں کی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 یعنی اس حراست آسمانی سے مقصد اہل زمین کے لئے کسی شر کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہچانا یعنی ان پر عذاب نازل کرنا یا بھلائی کا ارادہ یعنی رسول کا بھیجنا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ اور یہ کہ: ہم یہ نہیں جان سکے کہ اہل زمین کے ساتھ کسی برے معاملہ کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا پروردگار انہیں راہ راست [8] پر لانا چاہتا ہے۔
[8] یعنی یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ آسمان پر اس قدر ناکہ بندیوں کی غرض و غایت کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ لوگ اس قرآن پر ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات کے مستحق بنتے ہیں یا اس کا انکار کر کے اللہ کے عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔ یہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ اب باقی نہیں رہ گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔