ترجمہ و تفسیر — سورۃ نوح (71) — آیت 4

یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُؤَخِّرۡکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ ۘ لَوۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴﴾
وہ تمھیں تمھارے گناہ معاف کر دے گا اور ایک مقرر وقت تک تمھیں مہلت دے گا۔ یقینا اللہ کا مقرر کردہ وقت جب آجائے تو مؤخر نہیں کیا جاتا، کاش کہ تم جانتے ہوتے۔ En
وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور (موت کے) وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا۔ جب خدا کا مقرر کیا ہوگا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی۔ کاش تم جانتے ہوتے
En
تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) ➊ { يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ: مِنْ } کا معنی عام طور پر بعض ہوتا ہے، اس صورت میں معنی ہو گا اور وہ تمھارے کچھ گناہ معاف کر دے گا۔ مگر اس پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ کچھ گناہ تو پھر بھی باقی رہ گئے، ان کا کیا بنے گا؟اس کا ایک جواب وہ ہے جو امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے دیا ہے کہ یہاں { مِنْ عَنْ} کی جگہ آیا ہے اور {جَمِيْعٌ} کا معنی دے رہا ہے، گویا { يَغْفِرْ } کے ضمن میں {يَصْفَحُ} اور {يَعْفُوْ} کا معنی ملحوظ ہے: {أَيْ يَعْفُوْ لَكُمْ عَنْ جَمِيْعِ ذُنُوْبِكُمْ} یعنی وہ تمھارے سب گناہ معاف کر دے گا۔ دوسرا یہ ہے کہ { مِنْ بَعْضٌ} ہی کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ اگر تم میری دعوت قبول کرکے ایمان لے آؤ گے تو تمھارے پہلے گناہ معاف ہو جائیں گے، کیونکہ اسلام پہلے سب گناہ مٹا دیتا ہے، البتہ آئندہ کے لیے گناہوں سے بچتے رہنا، یہ نہ سمجھنا کہ ایمان لانے سے پہلے پچھلے سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔
➋ { وَ يُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} یعنی طبعی موت کا ایک وقت مقرر ہے، وہ کفر کی وجہ سے یا ایمان نہ لانے کی وجہ سے نہیں آتی بلکہ ہرمومن و کافر پر آتی ہے۔ وہ تو اپنے مقرر وقت پر آکر رہے گی، البتہ ایمان لے آؤ گے تو اللہ تعالیٰ اس عذاب سے جو کفر کے نتیجے میں آتا ہے، تمھیں محفوظ رکھے گا۔
➌ { اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ …:} اس مقرر وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی قوم پر عذاب کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ کاش! تمھیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ وقت آنے پر مہلت ختم ہو جائے گی، پھر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا تو تم اس سے پہلے پہلے ایمان لے آؤ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 اس کے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ایمان لانے کی صورت میں تمہاری موت کی جو مدت مقرر ہے اس کو مؤخر کرکے تمہیں مذید مہلت عمر عطا فرمائے گا اور وہ عذاب تم سے دور کردے گا جو عدم ایمان کی صورت میں تمہارے لیے مقدر تھا۔ بلکہ لامحالہ واقع ہو کر رہنا ہے اسی لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ایمان واطاعت کا راستہ فورا اپنا لو تاخیر خطرہ ہے کہ وعدہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آجاؤ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے گا اور جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آ جائے تو اس میں تاخیر نہ ہو گی۔ کاش تم یہ بات جان لو

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔