اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔
En
اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا
اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا
En
(آیت 28) {رَبِّاغْفِرْلِيْوَلِوَالِدَيَّ …:} اس آیت میں نوح علیہ السلام کی اس دعائے مغفرت کا ذکر ہے جو انھوں نے اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور ان اہلِ ایمان کے لیے کی جو عذاب کی پیش گوئی سچ مان کر اس سے بچنے اور کشتی میں سوار ہونے کے لیے ان کے گھر جمع ہو گئے تھے، اس کے ساتھ ہی انھوں نے پہلے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت کی دعا کی اور کافروں کے لیے مزید ہلاکت کی بد دعا کی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوح علیہ السلام کے والدین موحد تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 کافروں کے لیے بدعا کی تو مومنین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ 28۔ 2 یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے جس طرح مذکورہ دعا تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کے لئے ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ اے میرے پروردگار! مجھے، میرے والدین کو اور ہر شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت [17] سے داخل ہو اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے اور ظالموں کے لیے اور زیادہ ہلاکت بڑھا۔
[17] کافروں کے حق میں سیدنا نوح کی بد دعا :۔
سیدنا نوحؑ کی دعا کا پہلا حصہ تو کافروں کے متعلق تھا جن کے متعلق آپ نے اپنے تجربہ کی بنا پر یہ کہا تھا کہ ایسے بد کردار لوگ ہیں کہ ان کے نطفہ سے بھی بے حیا، بد کردار اللہ کے نافرمان اور ناشکرے ہی پیدا ہوں گے۔ وہ خود تو کیا ایمان لائیں گے، دوسروں کو بھی گمراہ ہی کرنے کی کوشش کریں گے۔
اپنے اور مومنوں کے حق میں دعائے خیر :۔
اسی دعا کا دوسرا حصہ جو اپنے لیے اور جملہ مومنین کے لیے ہے اس میں خاصی نرمی و لچک اور وسعت قلبی پائی جاتی ہے۔ یعنی سب سے پہلے تو آپ نے اپنے حق میں اپنی تقصیرات سے بخشش کی دعا فرمائی پھر اپنے والدین کے لیے پھر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لا کر آپ کے گھر یا مسجد یا کشتی میں داخل ہو جائیں۔ پھر ان مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی جو اس دعا کے بعد یا آپ کے بعد ایمان لائیں گے۔ اس دعا کے بعد پھر ایک بار تاکیداً فرمایا کہ اس ظالم قوم کی ہلاکت میں کوئی رو رعایت نہ کرنا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔