(آیت 24) {وَقَدْاَضَلُّوْاكَثِيْرًا …:} یعنی قوم کے ان سرداروں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔{”وَلَاتَزِدِالظّٰلِمِيْنَاِلَّاضَلٰلًا“} (اور ان ظالموں کو گمراہی کے علاوہ کسی چیز میں نہ بڑھا) یہ دعا درحقیقت عذاب کے لیے ہے، کیونکہ گمراہی پر قائم رہنے اور اس میں مزید بڑھتے چلے جانے کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ عذابِالٰہی کے مستحق ہو جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے آل فرعون کے حق میں یہی بددعا کی تھی: «رَبَّنَااطْمِسْعَلٰۤىاَمْوَالِهِمْوَاشْدُدْعَلٰىقُلُوْبِهِمْفَلَايُؤْمِنُوْاحَتّٰىيَرَوُاالْعَذَابَالْاَلِيْمَ» [یونس: ۸۸]”اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔“ ضمیر کی جگہ {”الظّٰلِمِيْنَ“} کے لفظ کی صراحت سے ان لوگوں کے عذاب کی بد دعا کے مستحق ہونے کا سبب بیان ہوا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہوگا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے تو اب تو بھی ان ظالموں کی گمراہی میں ہی اضافہ کر دے“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔