(آیت 13) {مَالَكُمْلَاتَرْجُوْنَلِلّٰهِوَقَارًا: ”لَاتَرْجُوْنَ“”رَجَايَرْجُوْرَجَاءً“} (ن) امید رکھنا۔ اس کا معنی عقیدہ رکھنا اور ڈرنا بھی آتا ہے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں اور امید آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ امید اسی چیز کی ہوتی ہے جس کے موجود ہونے کا عقیدہ ہو اور امید کا مطلب ہی یہ ہے کہ خوف بھی موجود ہے۔ {”وَقَارًا“} کا معنی عظمت ہے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ تمھیں کیا ہے کہ اپنے بتوں کی عظمت تو تمھارے دلوں میں بہت ہے، مگر تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کا عقیدہ نہیں رکھتے؟ دوسرا معنی ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے۔ اگر تم اس کے وقار وعظمت کے معتقد ہوتے اور تمھیں اس کا خوف ہوتا تو اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو کبھی شریک نہ بناتے جو اس کے مقابلے میں کوئی وقار اور کوئی عظمت نہیں رکھتیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 یعنی جس طرح اس کی عظمت کا حق ہے تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں؟ اور اس کو ایک کیوں نہیں مانتے اور اس کی اطاعت کیوں نہیں کرتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کے وقار کا خیال [6] نہیں رکھتے۔
[6] یعنی جب تم اپنے چھوٹے چھوٹے چودہریوں اور سرداروں کے ہاں جاتے ہو تو بڑے اہتمام کے ساتھ جاتے ہو۔ اور وہاں جا کر بھی یہ خیال رکھتے ہو کہ خلاف ادب کوئی حرکت سرزد نہ ہو جائے لیکن اللہ کو تم نے ایسا ہی بے وقار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خلاف بغاوت کرتے ہو۔ اس کی نافرمانیاں کرتے ہو اس کی خدائی میں دوسروں کو شریک بناتے ہو اور تمہیں ذرہ بھر شرم نہیں آتی۔ نہ ہی تمہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت ہمیں ان گناہوں کی سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔