ترجمہ و تفسیر — سورۃ المعارج (70) — آیت 5

فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِیۡلًا ﴿۵﴾
پس تو صبر کر، بہت اچھا صبر۔ En
(تو تم کافروں کی باتوں کو) قوت کے ساتھ برداشت کرتے رہو
En
پس تو اچھی طرح صبر کر En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5تا7) {فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيْلًا …:} یعنی آپ کفار کی طرف سے عذاب کے مطالبے اور مذاق پر صبر کریں۔ { صَبْرًا جَمِيْلًا } جس میں نہ تنگدلی ہو نہ گھبراہٹ، نہ جلد بازی ہو، نہ شکوہ اور نہ شکایت۔ یہ لوگ اس عذاب کو بعید سمجھ رہے ہیں، کیونکہ ان کا اس پر ایمان نہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس کا آنا یقینی ہے اور تمھارے پچاس ہزار سال ہمارے ہاں ایک دن شمار ہوتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ پس (اے نبی!) آپ صبر کیجئے، صبر جمیل [4]
[4] صبر جمیل کا مفہوم اور فائدہ :۔
صبر جمیل یہ ہے کہ کسی کے طعن و تشنیع، مذاق و تمسخر اور ایذا رسانی کو ٹھنڈے دل سے برداشت کر لیا جائے۔ خود تکلیف سہہ لی جائے مگر تکلیف پہنچانے والے کو زبان سے بھی برا بھلا نہ کہا جائے۔ نہ ہی دوسروں سے اس کی شکایت اور شکوہ کیا جائے اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ صبر جمیل جس قدر تلخ اور ناگوار ہوتا ہے اس کا پھل اتنا ہی میٹھا ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ مکی دور میں مسلمانوں کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر جمیل ہی کی تلقین کی جاتی رہی وجہ یہ تھی کہ اگر مسلمان اس دور میں محاذ آرائی پر اتر آتے، خواہ یہ صرف زبانی تلخ کلامی تک ہی محدود ہوتی تو اس سے اسلام کی دعوت کے مقصد کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اسلام کی منزل مقصود یہ تھی کہ اللہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔ جو تیئس سال کے قلیل عرصہ میں حاصل ہو گئی اور اگر مسلمان اسی دور میں محاذ آرائی شروع کر دیتے تو نہ معلوم اس مقصد کے حصول میں کتنی لمبی مدت کی تاخیر واقع ہو جاتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔