ترجمہ و تفسیر — سورۃ المعارج (70) — آیت 44

خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿٪۴۴﴾
ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی، ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہو گی، یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ En
ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہو گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا
En
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھا رہی ہو گی، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 43 میں میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 جس طرح مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔ 44۔ 2 یعنی سخت ذلت انہیں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوگی اور ان کے چہرے مارے خوف کے سیاہ ہوں گے۔ 44۔ 3 یعنی رسولوں کی زبانی اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی، ذلت ان پر چھا رہی ہو گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔