ترجمہ و تفسیر — سورۃ المعارج (70) — آیت 39

کَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّمَّا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۹﴾
ہرگز نہیں! یقیناً ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔ En
ہرگز نہیں۔ ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں
En
(ایسا) ہرگز نہ ہوگا۔ ہم نے انہیں اس (چیز) سے پیدا کیا ہے جسے وه جانتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 38 میں تا آیت 40 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 ایسا کیسا ممکن ہے کہ مومن اور کافر دونوں جنت میں جائیں رسول کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے دونوں کو اخروی نعمتیں ملیں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ یعنی (حقیر قطرے) سے۔ جب یہ بات ہے تو کیا تکبر اس انسان کو زیب دیتا ہے؟ جس تکبر کی وجہ سے ہی یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب بھی کرتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ ہرگز ایسا نہ ہو گا [24] ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ خود بھی جانتے ہیں
[24] یعنی ان کی کرتوتیں یہ ہیں کہ اللہ کے کلام کو جھٹلاتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مخالفت میں سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔ انہیں تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسلام کی راہ روکنے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس پر امیدیں یہ لگائے بیٹھے ہیں کہ نعمتوں والی جنت بھی ہمارے لئے ہے۔ ان کی یہ توقع بالکل بے ہودہ اور باطل ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ جس خالق نے انہیں پانی کے حقیر و ذلیل قطرہ سے پیدا کر کے اس منزل پر پہنچایا ہے وہ انہیں ویسی ہی حقیر اور ذلیل حالت کی طرف لوٹا بھی سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔